اسلامک

حضرت موسیؑ کا موت کے فرشتہ کو طمانچہ (یہ عالم)

اس عارضی دنیا سے کوچ کرتے وقت اللہ پاک اپنے پیغمبروں کو موت اور زندگی میں انتخاب کا اختیار دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی خواہش کے مطابق زیست اور موت میں کسی ایک کو چنتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ کہ موت کا ذائقہ تو موت کے فرشتوں نے بھی چکنا ہوتا ہیں۔ لیکن اللہ پاک اپنے نیک اور بزرگ پیغمبروں کو اس جہان فانی میں کچھ عرصہ ان کی چاہت کے مطابق بھی عطا فرماتے ہیں۔ اس حوالے سے خاتم النبیّین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،صحابہ کرام کو ایک بڑا دلچسپ واقعہ سناتے ہیں جس کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کیا ہے۔
خاتم النبیّین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب کی مجلس میں حضرت موسیؑ اور موت کے فرشتہ کا ایک انوکھا واقعہ سناتے ہوئے فرمایا

کہ جب موت کا فرشتہ انسانی شکل و صورت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ آپ اپنے رب کے حکم کو قبول کرتے ہوئیے موت کے لئے کمربستہ ہو جائے ۔ جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے اس فرشتہ کی آنکھ پررکھ کہ ایک طمانچہ دے مارا جس سے اس کی آنکھ نکل کر زمین پر جا گری۔ وہ فرشتہ شکایت لیکر بار گاہ الہی میں اللہ پاک کے سامنے حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ آپ نے جس انسان کی روح پر قبضہ کرنے مجھے بھیجا تھا ،وہ موت تو سرے سے چاہتا ہی نہیں الٹا اس نے میری آنکھ ہی نکال ڈالی۔ موت کے فرشتہ کا شکواہ سننے کے بعد اللہ پاک نے اس کی آنکھ پھر سے اپنی جگہ پر لگائی اور فرمایا کہ میرے بندے کے پا س دوبارہ جاؤ اور جا کر کہو کہ کیا تم زندگی کی مزید چاہت رکھتے ہو؟ اگر تمہیں زندگی کی چاہت اور خواہش ہے تو بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھ دو۔ تیرے ہاتھ کہ نیچے جتنے بال آ جائیں اتنے سال مزید آپ زندہ رہ سکتے ہو۔موت کہ فرشتہ نے اللہ پاک کے حکم کے مطابق حضرت موسی علیہ السلام کے سامنے سب عرض کر دیا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے ملک الموت سے پوچھا کہ اور جب بالوں جتنے سالوں کی مدت پوری ہو جائے تو پھر کیا ہوگا؟ فرشتہ نے جواب دیا کہ پھر اس کے بعد تمہیں موت آجائے گی ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ اب قریب ہی ہے۔اور پھر انہوں نے یہ دعا کی کہ اے میرے پروردگار! تو مجھے مقدس سرزمین میں ایک پتھر کے پھینکنے کے فاصلہ پر موت دینا۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد خاتم النبیّین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر دکھاتا جو سرخ ٹیلے کے راستہ پر واقع ہے۔

اس بیان کردہ واقعہ کا ذکر بخاری شریف میں بھی ملتا ہے۔ اس واقعہ سے جہاں ایک طرف حضرت موسی ؑ کے مرتبہ اور جلال اور اللہ پاک کے نزدیک ان کے مقام کی جلک آشکار ہوتی ہے تو دوسری طرف کسی بھی حملہ آور سے اپنے دفاع کہ جائز ہونے کی دلیل بھی ملتی ہیں۔ اس امر کی وضاحت ایک حدیث نبوی ﷺ سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اگر دوسرا شخص جس پر حملہ کیا گیا ہو لڑائی میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔ اللہ پاک اپنے نیک ، پرہیز گار ، اور متقی بندوں پر انکی بندگی کے انعام میں اپنا خاص فضل و احسان اور کرم فرماتا ہے لیکن موت سے ملک الموت کی بھی خلاصی نہیں ہیں۔
کُلُّ نَفْسٍ ذَائقة الْمَوْتِ
ہر متنفس کو موت کا مزہ چکنا ہے
موت برحق ہےاور ہر شے نے موت کے پیالے سے موت کا جام پینا ہوتاہے۔ جو گناہگاروں کیلیے زہر سے زیادہ کڑوا ، تندخو اور کھاری ہوگا، اور نیک بندوں کیلیے شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں اپنے نیک لوگو ں فہرست میں شامل فرمائے۔ آمین!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button