ادب

خود احتسابی تربیت کا حصہ۔

خود احتسابی کا سب سے بہترین وقت شب کی تاریکی میں نیند سے کچھ دیر قبل ھے جب نرم گداز بستر میں ہم زندہ لوگ صرف ایک لمحہ کو سوچ لیں کہ اس وقت چھ فٹ نیچے کسی بیاباں میں سخت زمین پہ بے کفن پڑے ھوتے تو ؟؟؟؟؟
کیا آ ج تک کے ملنے والے وقت میں ہم نے ا پنے سارے فرائض بہ خیرو خوبی آدا ر دئیے۔ کوئی حق جو ادا کرنے سے رہ گیا اللہ کا، اسکے بندوں کا ، کسی جانور کا ،
شائد یہ خود احتسابی کا عمل لمحہ بھر کو آ پ کو اور ہمیں سونے نہ دے۔
مگر یہ ممکن ھے کہ آ ج کی یہ خود احتسابی کچھ فرائض جو ہماری طرف سے آ دا نہ ھو سکے کل کی ایک نئی صبح کی نوید بن جائے۔ چنانچہ خود احتسابی جاری رکھیں۔ اس وقت تک جب آپ اور ہم جان لیں کہ اب چھ فٹ نیچے کا زمین کا سفر آ سان ھو گیا۔
انسان کی پستی کا آ غاز ‘میں’ سے شروع ھوتا ھے اور میں نفس ھے ۔ انسان جس قدر نفس کا غلام بنتا جاتا ھے اسی قدر انسانیت کےمقام سے گرتا جاتا ھے اور اپنی ذات کا پابند و سلاسل ھوتا جاتا ھے۔
جبکہ انسانیت کی معراج ” آ پ، تم، تو” سے شروع ھوتی ھے۔ ذات کی نفی آنا و غرور کی شکست ھے۔ مگر اس سفر کا آغاز ھی اس وقت ھوتا ھے جب انسان ” میں ” کے تلاطم سے نکل کے ” آپ” کے بحر میں داخل ہوتا ہے ۔ کہیں تم ،تو کہیں تو کی منازل طے کر کے فنا فی اللہ کی حدود کو چھو بیٹھتا ہے۔ نفس کی شکست پہ نادان تلملاتا ھےاور باشعور مسکراتا ھے کیونکہ وہ جانتا ھے کہ آ ج سے وہ جس سفر پہ نکلا ھے اس میں ہار نہیں جیت ھے۔ اقبال کیا خوب فرما گئے
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
گویا فانی زندگی سے لافانی زندگی کا سفر خود کو جاننے کے عمل سے شروع ھوتا دل کی دھڑکن میں سنائی دے رہا ہے۔ مگر ڈھونڈنے کی کوشش ہی مشکل عمل ہے۔ جب مقصود سجدہ و تسبیح ھو تو پھر پایا بھی ظاہر ہی جاتا ہے ۔ باطن تو اندر کہیں چلاتا رہتا ہے کہ مجھے پانے کی کوشش کرو میں تم میں موجود ہوں۔ مگر باطن سجدے میں کہاں مقید ہے اس کے لئے تو دل کا جھکنا، روح کا تڑپنا، عشق کا ماننا، وجود کا مٹنا، حاصل سے لا حاصل کو لپکنا لازمی ہے۔میں سے آ گے کا مقام وھی مقام ہے جو بے غرضی کی آ تھاہ گہرائیوں سے شعور کے سیپ ڈھونڈ نکالتا ہے۔ “میں” اگر عام سے انسان کو بے خود کر کے نفس کا غلام بنا دیتی ہے تو “میں ” سے آ گے بڑھ کے انسان آ گہی کے سمندر میں موجزن نفس لوامہ کی مجموعی تگ و دو سے کہیں بہت دور شعور و لا شعور کی جنگ سے بھاگ کے بے شعوری کے دروازے پہ دستک دیتا دکھائی دیتا ہے۔ اور کوئ کیسے جان سکتا ھے وہ بے خودی، بے شعوری ، بے سلیقگی کس مقام عروج پہ پہنچا دیتی ہے۔
شبانہ اشرف

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button