بہلول بادشاہ درویش

In اسلام
January 06, 2021

خلیفہ ہارون رشید کے دور میں ایک مجذوق درویش خدا جس کا نام بہلول تھا لوگوں بظاہر درویش نظر آتا ہے لیکن وہ بہت ہی نیک اور اللہ کا ولی تھا لوگوں کو سیدھی راہ میں لیکر آتا تھا اس کی بہت سی کرامتیں تھی
ایک مرتبہ بہلول خلیفہ وقت کے تخت میں بادشاہی تختی میں جا کر بیٹھ گیا جس میں صرف اور صرف بادشاہ بھیٹا کرتا تھا بہلول درویش جا کر اس کےتخت پر بیٹھ گیا سپاہیوں نے دیکھا کہ درویش اسی تخت پر بیٹھا ہے اور بادشاہ کے آنے کا وقت ہو چکا ہے بادشاہ جب دربار میں حاضر ہوا تو تخت پر درویش کو بیٹھا دیکھ آگ بگولا ہو گیا
بادشاہ نے حکم صادر کیا کہ اس کو کوڑے مار کر اتارا جائے اور حکم کا تعمیل ہوا سپاہی مجذوق کو کوڑے مارتا اور درویش ہنستا رہتا درویش کے اس رویے کو دیکھ کر بادشاہ نے درویش سے پوچھا بتا ہنستا کیوں ہے تو بہلول درویش نے جواب دیا کہ میں اس تخت میں صرف ایک مرتبہ بیٹھا تو مجھے اتنے کوڑے لگے تُو پوری زندگی اس میں بیٹھتا آیا ہے تجھے کتنے کوڑے لگیں گے
یہ بات سن کر بادشاہ کے چہرے کی صورت ہی بدل گئی مجذوق نے بادشاہ کو نصیحت کی کہ بادشاہ اگر تُو کسی ویرانے میں جاکے کھو جائیں اور تجھے وہاں پر پانی نہ ملے اور پیاس کی شدت کی وجہ سے تمہاری جان جا رہی ہو اور کوئی پانی لے کر آئیں اور کہیں کہ آدھی حکومت لگے گی پانی کے لئے تو تم کیا کرو گی بادشاہ نے کہا میں اسے دے دوں گا پھر مجذوق نے کہا تم وہ پانی پیلو اور وہ پیٹ میں جاکر ہضم نہ ہو تو پھر تمہیں طبیب ملے اور وہ کہیں کہ میں تمہیں ٹھیک کر دوں گا اس کے لئے بھی آدھی حکومت چاہیے تو تم کیا کروگے بادشاہ نے کہا میں دے دوں گا
اس پر درویش نے کہا بس بادشاہ تمہاری حکومت کی آخر یہی دو بوند پانی ہےاس کے سوا کچھ نہیں تمہیں کس بات کا غرور ہے راہ راست میں آ جاؤ اور یہی حقیقت ہے کہ یہ دنیا فانی ہے تم بھی یہاں سے چلے جاؤ گے اس دن تمہاری کوئی بادشاہی نہیں چلے گی تمہاری حکومت تم سے چھن جائے گی اور صرف اللہ کی بادشاہی رہے گی اور وہی ہمیشہ قائم رہنے والا ہے

/ Published posts: 15

کامیاب مستقبل کا منتظر ہے

Facebook