تعلیم

اہل علم اور کمپیوٹر نظام

اہل علم علم کی دولت سے مالا مال تھےاب نظام تعلیم میں بڑی تبدیلی آئی ہے _پہلےدور کے اساتذہ اہل علم ھوتے تھے وہ بچوں کو علم کی دولت سے مالا مال لرتے تھے_طلبہ میں بھی سوچنے کی صلاحیت پیدا ھوتی تھی_ طلبا سوالات لرتے تھے_اس طرح پتہ چلتا تھا کہ بچہ کچھ سیکھ رہا ھے_اساتذہ بھی بہت محنت کرتے تھے ان کے اندر پڑھانے کا جذبہ ھوتا تھا_استاد کا بچوں کے اندر علم بھرنا ایسا تھا جیسے پھول کی خوشبو انسان کو خوش کر دیتی ھے جس سے تازگی کا احساس پیدا ھوتا ھےایک صوفی بزرگ خواجہ غریب نواز ایک بہترین استاد تھے_وہ درد مند انسان تھےان کا علم بہت وسیع تھا،ان کے ہاں علم حاصل کرنے والوں کا ہر وقت رش لگا رہتا تھا وہ ایک درد مند انسان تھےان کاعلم بہت وسیع تھا_وہ خود بھی مہمان نواز تھے_اور وہ شاگردوں کو بھی تلقین کرتے کہ اپنے اندر گرم جوشی، ہمدردی اور مہمان نوازی پیدا کریں ان کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصدایسے شاگرد پیدا کرنا تھا جو کہ علم اور ہمدردی کا پیکر ھوں_وقت کی تبدیلی کے ساتھ وقت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ہر چیز الٹ پلٹ گیاب اساتزہ کے اندر وہ جذبہ موجود نہیں رہا_استاد کو پیسوں کا حرص ہے_استاد کو پیشے سے نہیں اپنے گریڈ سے پیار ھے_اس میں استاد کا قصور نہیں ہے _بلکہ پالیسی بنانے والے حقائق سے بے خبر ہیں _آج کا استاد ڈگری ھولڈر ھے_اساتذہ کے پاس ریسرچ کی ڈگریاں ھیں _اساتزہ کی ریسرچ کی تعلیم کا کوئ فائدہ نظر نہیں آتا _ پہلے استاد دوردراز کے علاقوں میں جا کر تعلیم دیتے تھے_ان کو تکالیف کا احساس ھوتا تھا_شاگرد بھی کئی کئ میل سفر کرکےعلم کی پیاس بجھاتے تھے _استاد اہل علم تھے بچوں کو مضمون کا علم ھوتا تھابچے بحث کرتے تھےلیکن اج3 کے استاد کمپیوٹر ھیں_ کلاس میں داخل ھوتے ھی موضوع بتا کر کمپیوٹر سے ریسرچ کا کہ دیتے ھیں_ بچہ کمپیوٹر سے معلومات اکٹھی کرتا ھے اوردوسرے بچوں کو بتا دیتا ھے_آجکل بچے خود سوچ بچار نہیں کرتےمجھے ڈر ھے کہ کہیں انے والے وقتوں میں ہمارا تعلیمی نظام تباہ نہ ھو جاے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!