اسلامک

اگر یہی محبت گھر میں مل جائےغور سے پڑھیں زندگی بدل جائے گی۔انشاء اللہ

ایک مرتبہ مجھے ایک بوڑھی طوائف سے ملاقات کا موقع ملا میں نے اس سے چند سوالات کئے آئے جن کے جوابات سن کر میرا دل دل بڑا خوش ہوا سوالات کیے تھے۔
1. لوگ طوائف کے پاس کیوں جاتے ہیں ہیں جبکہ وہاں جاکر گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
2۔اپنی عزت اپنا مال لوٹاتے ہیں اور خوفزدہ بھی رہتے ہیں۔
3۔یہ سب کچھ لٹا نے کے باوجود ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بنتی ہے۔
اس طوائف نے جواب دیا کہ بیشک لوگ ہمارے پاس آنے سے گناہ گار ہوتے ہیں اور کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں پھر خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے کہ پکڑے نہ جائیں نیز مال بھی دے کر جاتے ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ ہم ہر آنے والے کو ایسی محبت دیتے ہیں اتنا پروٹوکول دیتے ہیں کہ آنے والے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیتے ہیں ہیں اس کی خوب خدمت کرتی ہیں اور پھر اس کی خواہشات کو پورا کرتی ہیںجائے تو کوئی بھی ہمارے گھر کا رخ نہ کرےیہاں تک کہ اس نے بتایا کہ پہلے زمانے کے بادشاہ اپنی بچیوں کی تربیت کے لئے ہمارے ہاں بھیجتے تھے کہ تم نے اپنے شوہر کی خدمت کس طرح کرنی ہے تاکہ وہ کسی اور طرف توجہ نہ کریں کریں میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ اگر کتے سے بھی محبت کی جائے تو وہ بھی انسان کے پاؤں چومتا ہے ہے ہے انسان تو پھر انسان ہیں وہ کیوں نہ آپ کی محبت کا جواب محبت سے دے گا لہذا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں محبت کو پھیلانا چاہیے حضرت عمر فاروق نے تین عمل بتائے ہیں
سلام میں پہل کرو۔
ایک دوسرے کو اچھے القاب سے پکارو۔
محفل میں اس کے لئے جگہ چھوڑ دو۔

ارادہ قتل والے کے لیے معافی۔

پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ ایک کافر نے یہ دیکھا تو تلوار نکال کر ارادہ قتل سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب بڑھا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پیدا ہوئے تو تو اس نے پوچھا کہ بتاؤ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اب تجھے کون بچائے گا سرکار دو عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرا اللہ اللہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ سن کر اس کے دل پر ایسا رعب طاری ہوا کے وہ خوف سے کانپنے لگا یہاں تک کے تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی سرکار دو عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی تلوار اٹھائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ بتاؤ اب تمہیں کون بچائے گا کافر نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معاف فرما دیں تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کافر کو معاف فرما دیا اور وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔سبحان اللہ۔یہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کا اخلاق آپ کا کردار مبارک ہے اگر ہم ان پر عمل کریں تو ہم ہر قسم کے گناہ سے سے دور رہ سکتے ہیں ہیں ہمارے معاشرے میں میں اب اب صرف اخلاق اور کردار کی کمی باقی ہے ہے اور کردار کو درست کرلیں تو ہم ہر قسم کے گناہ سے دور رہ سکتے ہیں۔انشاء اللہ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button