اسلامک

مسلمان اور مومن میں فرق

کلاس جاری تھی، اسلامیات کے استاد صاحب ہمیں لیکچر دے رہے تھے اور مومنوں کی خصوصیات بتا رہے تھے۔ اتنے میں ذہن میں سوال اٹھا کہ آخر مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہے؟ میں نے یہ پوچھنے کے لیے ہاتھ اٹھایا اور اپنے استاد صاحب سے پوچھا کہ آخر مومن اور مسلمان میں کیا فرق ہے؟ استاد صاحب نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور جواب دیتے ہوئے بتایا کہ مسلمان وہ ہے جو اللہ پاک کو مانے اور مومن وہ ہے جو اللہ پاک کی مانے۔ استاد صاحب نے مزید کہا کہ آپ اپنے آپ کا پتا کر سکتے ہیں کہ آپ مومن ہیں یا مسلمان۔ لیکچر کا وقت ختم ہوا اور استاد صاحب بھی چل دیے۔ ہماری اگلی کلاس کے بعد چھٹی تھی۔ شام کو میں نے سوچا کہ اسی طرح ہم مسلمانوں میں تو شامل ہیں مگر مومنوں میں نہیں۔

دوسرے روز لائبریری جانا ہوا، وہاں جا کر اسلامیات کی کتاب نکالی اور پڑھنے بیٹھ گیا۔ مومنوں کی صفات پڑھیں اور اسی طرح مومنوں کے بارے میں پتا چلا کہ وہ کیسے اللہ پاک کے برگزیدہ بندے ہیں۔ ان میں ایک سچے مسلمان کی تمام خصوصیات ہوتی ہیں۔ ان خصوصیات کا تذکرہ اس چھوٹی سی تحریر میں کروں گا۔ سب سے پہلے تو مومن کے اللہ پاک اور اس کے نبی کریم پر ایمان رکھتا ہے۔ وہ اللہ پاک اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل پیرا ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتا ہے۔ وہ نماز، روزہ اور باقی عبادات کا کا اہتمام بھی فرماتا ہے۔ اسی طرح وہ زہد و تقوی بھی اختیار کر لیتا ہے۔ وہ جہاد بھی میں بھی شامل ہوتا ہے اور جہاد کی سب سے افضل قسم میں بھی جو کہ جہاد بالنفس ہے جس کا مطلب اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے۔

مومن اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے ہر برائی سے بچا رہتا ہے۔ اللہ پاک کا ڈر ایک سچے مومن کے اندر پیدا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وہ احکام باری تعالیٰ پر عمل پیرا ہوتا ہوتا ہے۔ مومن شخص کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور سچ بولنے کو اپنا شعار بناتا ہے۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ اللہ پاک جھوٹ بولنے والوں سے سخت نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ نماز کا اہتمام فرماتا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ وہ ان چیزوں کی پابندی کرے گا جن کا حساب بروز قیامت ہونا ہے۔ اس طرح ایک سچا مسلمان مومن کہلاتا ہے اور اس میں مومنوں والی صفات ہوتی ہیں، وہ اسلام پر سچے دل سے عمل پیرا ہوتا ہے اور ہر اس برائی سے دور رہتا ہے جس کو باری تعالیٰ نا پسند فرماتا ہے۔ ان میں سے جھوٹ، غیبت، تکبر، وغیرہ اہم ہیں جن سے مومن خود کو دور رکھتا ہے۔

ان تمام باتوں سے آسان ہو جاتا ہے ہے ایک انسان اپنا محاسبہ کر لے تاکہ اسے پتا چل جائے کہ وہ مومن ہے کہ مسلمان۔ مگر اس معاشرے میں ہم سب صرف مسلمان ہو کر رہ رہے ہیں۔ ہمارے اندر مومنوں والی صفات نہیں ہیں گویا ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں جو صرف اللہ پاک اور اس کے رسول پر ایمان تو لاتے ہیں مگر ان کے احکامات پر عمل پیرا نہیں۔ ہم اس معاشرے میں رہ رہے ہیں جس میں ہر طرح کی گندگی موجود ہے۔ ہمارے معاشرے میں جھوٹ، چغل خوری، غیبت، تکبر، ناپ تول میں کمی جیسی برائیاں عام ہیں۔ ان تمام برائیوں کو اللہ پاک کی ذات سخت نا پسند کرتی ہے جو اس معاشرے میں عام ہیں۔ بہت ہی کم لوگ درست طرز سے دین پیر عمل پیرا ہیں۔ جب تک برائیوں نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

ایک خوشگوار معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم معاشرے میں سچے مسلمان کے طور پر رہیں۔ ان تمام برائیوں سے خود کو بچائیں جو معاشرے میں عام ہیں اور جن کو اللہ پاک کی ذات سخت ناپسند فرماتی ہے۔ کوشش کریں دین پر عمل پیرا ہوں کیوں کہ یہی نجات کا ذریعہ ہے۔ اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھیں اور دوسروں کی خوشی میں خوش ہوں۔ اللہ پاک کے کرم سے ہمارا معاشرہ خوشگوار بن جائے گا اور تمام مسائل دور ہو جائیں گے۔ حرف آخر یہی ہے کہ مسلمان سے مومن بنیے یہی اللہ پاک کو پسند ہے اور ذریعہ نجات بھی ہے۔

Danish Hameed

I’m a student, researcher & a writer. I started writing articles 2 years ago. I’m 19 years old and always try to work for the betterment of country.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button