اسلامک

آپنے ا قرباء احباب رفقاء کے بغل میں دفن ہونا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
آپنے ا قرباء احباب رفقاء کے بغل میں دفن ہونا
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے وفات کے وقت کہا کے مجھے ازواج مطہرات کے ساتھ دفن کرنا چونکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کے ساتھ بات یعنی (وقت گزارتی تھے )کیا کرتی تھیں آپ کے ساتھ دفن ہو کر میں اپنی بڑائی نہیں چاہتی۔
فائدہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ میں اپنی بہن اسماء کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن زبیر سے کہا تھا کے مجھے بقیع میں جہاں دیگر ازواج مطہرات دفن ہیں وہی دفن کرنا چونکہ ہماری زیادہ تر صحبت اور گفتگو انہیں سے رہا کرتی تھی انہیں سے آنس و رابطہ تھا ۔اس سے معلوم ہوا کہ آدمی اپنے احباب رفقاء جن کے ساتھ زندگی میں انس ربط و تعلق ومصا حبت کا معاملہ تھا۔ ان کے بغل اور درمیان میں دفن ہونے کی خواہش رکھنا اوریا وصیت کر جانا بہتر اور مشروع ہے؛ کیونکہ مرد ےعالم برزخ میں اپنے رفقاء سے انس میں اسی طرح راحت حاصل کرتے ہیں جس طرح زندگی اور حیات میں م۔انجان اور بے ربط لوگوں سے ان کو تکلیف ہوتی ہے جیسےزندگی میں کہ آدمی ایسوں سے مربوط نہیں ہوتا ۔مزید اگر کسی نے خواہش نہیں ظاہر کی تو بھی اہل اور ذمہ داروں کو چاہیے کے اسی مقام پر ان کو دفن کریں جہاں ان کے اقرباء وہاحباب کی قبریں ہو ں
دوسرا جملہ جوحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے مبارک میں دفن ہو کر اپنی بڑائی بزرگی کا اظہار نہیں چاہتی ۔اس کا مطلب علامہ عینی نے لکھا کہ انہوں نے تواضعا عام قبرستان میں دفن ہونا چاہا ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا جملہ انتہائی سبق اورعبرت کی بات ہے کہ مرنے کے بعد بھی بڑائی فوقیت شہرت سے احتیاط اختیار کر رہی ہے اس سے معلوم ہوا کے کسی خاص جگہ میں شہرت اور فوقیت ہو ۔اس کے مقابلہ میں عام قبرستان میں جہاں عام لوگوں کے ساتھ رل مل جائے دفن ہونا بہتر ہے ۔اسی طرح عالم برزخ میں سکون اورانابت الی اللہ کاموقعہ زیادہ ملتا ہے ۔اور عوام الناس کی وہ بدعتیں جوعموما قبروں پر ہونے لگتی ہے اس سے حفاظت ہوتی ہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!