حضرت لوط علیہ السلام کی قوم

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم


حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھنے لگی۔ تو انہوں نے اللہ پاک سے التجا کی کہ اے اللہ ان فسادیوں کے خلاف میری مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ نے انکی دعا قبول فرمائی اور اس قوم پر عذاب نازل کیا۔


اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے۔ فرشتے اس قوم کے لئے عذاب الہٰی لیکر انسانی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آۓ۔ اور ان سے خواہش ظاہر کی کہ وہ ان کے گھر رہنا چاہتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انکی درخواست قبول کرلی اور وہ انہیں لیکر اپنے گھر کیطرف چل پڑے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے۔ کہ اگر انہوں نے ان مسافروں کی مہمانی نہ کی۔ تو کوئی اور ان کو اپنے گھر لے جاۓ گا اور وہ قوم انتہائی بد کردارتھی ۔

فرشتے کم عمر لڑکے

آپ علیہ السلام اسی لئے پریشان بھی تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے۔ کہ ان مہمانوں کو بدکاروں سے بچانا ایک مشکل کام ہے ۔ انہیں پہلے بھی اس کام میں کافی مشکلات آ چکی تھیں۔ اور لوگوں نے ان سے کہہ رکھا تھا۔ کہ کسی اجنبی کو اپنا مہمان نہ بنائیں۔ راستے میں حضرت لوط علیہ السلام نے کہا ۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ہے۔

کہ میں نہیں جانتا کہ روۓ زمین پر اس بستی والوں سے زیادہ گندے اور خبیث لوگ بھی کہیں ہونگے۔
وہ فرشتے کم عمر لڑکے کی شکل میں گئے تھے۔ اور انہیں اللہ پاک کی طرف سے یہ حکم ملا تھا۔ کہ اس قوم کو اس وقت تک تباہ نہ کرنا۔ جب تک کہ انکا نبی ان کے خلاف گواہی نہ دے لے۔


حضرت لوط علیہ السلام اس قوم کی بد افعالیاں کے بارے میں اچھی طرح جانتے تھے. اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
کہ جب فرشتے حضرت لوط کے پاس آۓ۔ تو وہ ان کے آنے سے پریشان ہوۓ اور کہنے لگے کہ آج کا دن بہت مشکل دن ہے۔
حضرت لوط علیہ السلام ان مہمانوں فرشتوں کو لیکر اپنے گھر آ گئے۔ تاکہ ان مہمانوں کی حفاظت کی جا سکے۔ مگر افسوس کہ انکی بیوی بھی انکی قوم جیسی کافرہ تھی۔ اس نے قوم کو ان مہمانوں کی خبر دے دی ۔

حضرت لوط کی بیوی


اللہ کے ایک جلیل القدر نبی کی زوجیت و صحبت سے برسوں سرفراز رہنے والی یہ عورت۔ حضرت لوط کی بیوی تھی۔ مگر اس پر ایسا شیطان سوار تھا۔ کہ سچے دل سے کبھی ایمان نہیں لائی۔ بلکہ تمام عمرمنافقہ رہی. جب قوم ِ لوط پر عذاب آیا۔ اور پتھروں کی بارش ہونے لگی۔ اُس وقت حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں اور مومنین کو ساتھ لے کر بستی سے باہر چلے گئے .

عذاب

واعلہ جو کہ اپکی بیوی تھی آپ کے ساتھ تھی۔ آپ نے بتا دیا تھا کہ کوئی شخص بھی بستی کی جانب نہ دیکھے۔ ورنہ وہ بھی عذاب میں مبتلا ہوجائے گا. کسی نے بھی بستی کی طرف نہیں دیکھا۔ اور سب لوگ عذاب سے محفوظ رہے۔ لیکن واعلہ چونکہ منافق تھی۔

اُس نے حضرت لوط علیہ السلام کی بات کونہ مانتے ہوے۔ بستی کی طرف دیکھ لیا۔ اور شہر کو الٹ پلٹ ہوتے دیکھ کر ذور ذور سے چلانے لگی۔

کہ ، ہائے رے میری قوم، یہ زبان سے نکلتے ہی عذاب کا ایک پتھر اس کو بھی لگا۔ اور یہ بھی ہلاک ہو کر جہنم رسید ہو گئی۔
پس قوم کے لوگ حضرت لوط علیہ السلام کے گھرکے دروازے پر آۓ۔ اور اونچی آواز سے کہنے لگے کہ اے لوط وہ کم سن لڑکے جو تمہارے ہاں مہمان بن کرآۓ ہیں۔ تم انکو ہمیں دے دو تو حضرت لوط علیہ السلام نے کہا۔


” اے قوم! یہ جو میری قوم کی تمام عورتیں ہیں، یہ تمہارے لئے جائز اور پاک ہیں۔
لیکن اس قوم نے یہ بات نہ مانی سب بدکار رہے۔ حضرت لوط علیہ السلام ان کو اپنے گھر میں انے سے روکنے کی بہت کوشش کی۔ دروازہ بند تھا لیکن وہ لوگ اسے کھولنے اور اندر گھسنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب صورتحال خراب ہو گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا


“اے کاش! مجھ میں اتنی طاقت ہوتی کہ میں تمہارہ مقابلہ کر سکتا یا میں کسی مضبوط قلعے میں پناہ لے سکتا۔


ان فرشتوں نے کہا


” اے لوط! ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں ۔ یہ لوگ تم تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔
حضرت جبریل علیہ السلام باہر تشریف لے گئے۔ اور اپنا پران کے منہ پر مارا تو وہ سب اندھے ہو گئے، بعض علماء کہ مطابق انکی آنکھیں بالکل معدوم ہو گئیں تھیں

نہ توانکی جگہ باقی رہی اور نہ ہی ان کا کوئی نشان باقی رہا وہ سب دیوارون کو ٹٹولتے اور نبی علیہ السلام کو دھمکیاں دیتے ہوے واپس لوٹ گئے اور کہا کہ جب صبح ہو گی تو ہم تم کو دیکھیں گے۔


پھر فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو کہا کہ
“آپ اپنے گھر والوں کو رات میں لیکر فورا یہاں سے چلے جائیں۔ اور جب قوم پر عذاب نازل ہو تو کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ سواۓ تمہاری بیوی کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے۔


حضرت حضرت لوط علیہ السلام جب شہر سے روانہ ہونے لگے۔ تو ان کے ساتھ بیٹیاں اور بیوی بھی تھی۔ اورجب وہ شہر سے باہر نکل گئے۔ اور سورج طلوع ہوا تو اللہ کا عذاب بھی آ گیا۔

جسے بچنا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے


” تو جب ہم نے حکم دیا تو ہم نے اس بستی کو الٹ کررکھ دیا۔ اور ان پرآسمان سے پتھر برساۓ گے جن پر تمہارے رب کی جانب سے نشان تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دور نہیں۔”


یعنی اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کو اسطرح الٹایا کہ انکا اوپر والا حصہ نیچے ہو گیا، پھر مسلسل پتھروں کی بارش سے انہیں مکمل اوجھل کر دیا۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام تھا جس پر اسے جا گرنا تھا، خواہ ان میں سے کوئی شہر میں تھا یا شہر سے باہر تھا۔


حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے شوہر اور بیٹیوں کے ساتھ روانہ ہوئی تھی، لیکن جب شہر تباہ ہونے کی آواز سنی تو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بولی “ہاۓ میری قوم” وہیں ایک پتھر اس پر آ پڑا، جس نے اسکا سر پھاڑ کر اسے اسکی قوم سے ملا دیا۔

حضرت لوط علیہ السلام کی جاسوسی وہی کرتی تھی اور آپکے پاس آنے والے مہمانوں کے بارے میں قوم کو اطلاع بھی یہی عورت دیا کرتی تھی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں انبیاء کرام کی زندگی سے بہترین سبق سیکھنےکی توفیق عطا فرمائے آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں