اسلامک

ابنِ آدم کی فطرت

ابنِ آدم کی فطرت
ابنِ آدم یعنی حضرتِ آدمؑ کی اولادجس کو انسان کی پہچان ملی ہے۔اللہ تعالٰی نے انسان کو مٹی سے پیداکیااور آخراس انسان نےمٹی میں ہی جاناہے۔اس انسان کی اوقات صرف مٹی تک کی ہے۔لیکن انسان اپنی اوقات بھول بیٹھاہے۔ابنِ آدم کی یہ فطرت ہے کہ وہ ایک لالچ اور حسد کا ڈانچاہوتاہے۔یہ سوچنااس کی فطرت ہےکہ وہ ہمیشہ کے لیےدنیا میں رہے گا۔دوسروں کی چیزوں کالالچ رکھنااس کی فطرت ہے۔دوسروں سےحسدرکھنااس کی فطرت ہے۔انسان کالالچ ہی اُسےمصیبتوں کی طرف دھکیلتاہے۔
لیکن ہر انسان ایک جیسانہیں ہوتاکچھ انسان اچھے بھی ہوتے ہیں۔وہ انسان جو اچھےہوتےہیں وہ اپنی اچھائی کی وجہ سے اللہ کلی جنت میں جائیں گےاوربُرےاپنی بُرائی کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔یہی قدرت کانظام ہے۔
اللہ تعالٰی نے انسان کو اپنی عبادت کےلیےپیداکیاہے۔لیکن انسان کی فطرت میں بھولنابھی شامل ہے۔اس لیے وہ دنیامیں آنےکا مقصدبھول گیاہے۔وہ بھول گیاہے کےاُسےکس لیےپیداکیاگیاہے۔
اُس نے اللہ کے دیےہوےمقصدکوچھوڑکراپنےمقصدپیداکر لیےہیں۔جس کی وجہ سے وہ راہِ راست سےدورجاچکاہےاوراللہ کی نافرمانی پرنافرمانی کیے جارہاہے۔اُس کےدل سے اللہ کا ڈر نکل چکاہے۔وہ پیغامِ محمدﷺکوبھول چکاہے۔انسان وہ کام ضرورکرتاہے
جس سے اُسےروکاجائے۔دولت انسان کاسب سےبڑالالچ آج تک رہا ہے۔دولت کے پیچھےانسان سب رشتےبھول جاتاہے۔ایک دوسرےسےآگےبڑھنے کےلیےیہ کچھ بھی کرسکتاہے۔ہرکسی سےحسداور بغض اس کی فطرت ہے۔اس فطرت کی وجہ سےابنِ آدم انسان سےحیوان بن جاتاہے۔
اس انسان نامی مٹی کےڈانچےمیں ایک اور فطرت پائی جاتی ہے۔جو اسے انسان سےشیطان بناتی ہے۔وہ ہےہوس یعنی دوسروں کی ماں یابہن یابیٹی کےجسم کی ہوس یہی فطرت اسے انسان سے شیطان بناتی ہے۔کچھ انسان ہمیشہ سےہی اس بیماری کاشکار ہوتےہیں۔
انسان کی یہ فطرت معصوموں کےگھروں کواُجاڑ کےرکھ دیتی ہے۔انسان کی یہی فطرت انسان کی تباہی کاسبب بنتی ہے۔ایساانسان معاشرےکاسب سےبڑادشمن ہوتاہے۔وہ دوسروں کے گھروں کے لیےہی نہیں اپنے گھر کے لیے بھی خطرہ ہوتاہے۔ایسے انسان
کومعاشرےمیں جینےکاکوئی حق نہیں ہے۔کیونکہ وہ معاشرےکی تباہی کا سبب بنتاہے۔
آج کل کے انسانوں میں سب سے بڑی اور بُری عادت جھوٹ اوردوسروں کی غیبت ہے۔یہ ایک ایسی عادت ہے جو معاشرے میں لڑائی جھگڑے کاسبب بنتی ہے۔جھوٹ ہی سب گناہوں کی جڑ ہے۔کسی کی غیبت کرنامطلب اپنے سگے بھائی کاگوشت کھاناہے۔یہ
سب کچھ پتا ہونےکے باوجودانسان اپنی اس فطرت کو بدلنے کے لیے تیارہی نہیں ہوتاہے۔یہ دونوں گناہ انسان کو منافق بنا دیتے ہیں۔انہی کی وجہ سےانسان دوسروں سے الگ ہوتاہے۔سارہ معاشرہ اُس سے دورجاتاہے۔سب لوگ اُس سے نفرت کرتے ہیں۔
انسان کی فطرت ہی اُس کی کامیابی اور نکامی کاسبب بنتی ہے۔اچھی فطرت انسان کوکامیاب اوربُری فطرت ناکام کر دیتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button