TECH

سموگ۔ ایک اور خطرہ

سموگ ایک اور خطرہ۔۔۔
آج ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ سموگ بھی بنتا جا رہا ہے۔ سموگ، ہوائی آلودگی کی ایک قسم ایسی ہے جو کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ ،نائٹروجن آکسائیڈ، اوزون ، دھواں اور گردوغبار سے مل کر وجود میں آتی ہے ۔ سموگ کا لفظ سموک اور فوگ سے مل کر بنا ہے۔
ذرائع آمدورفت اور صنعتکاری میں جلنے والاایندھن، سموگ کی وجہ بنتا ہے ۔ اس کے علاوہ تیل اور کوئلہ کی شکل میں جلنے والا ایندھن ہوا میں بہت زیادہ مقدار میں دھواں چھوڑتا ہے جو کہ ہوائی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔ ایک اور قسم کی سموگ جس کو فو ٹو کیمیکل سموگ کے نام سے جانا جاتا ہے، سردیوں میں بہت شدید نظر آتی ہے ۔ جب نائٹروجن کے ساتھ کچھ دوسرے کمپاونڈز مل کر سورج کی روشنی یعنی دھوپ پر اثر انداز ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہ ماحول میں ایسے ذرات پیدا کرتے ہیں  جو سموگ پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
سموگ ایک خطرہ ہے جو کہ زہر آلود ہوتا ہے سموگ سے لوگ موت کے گھاٹ اتر سکتے ہیں اور حال ہی میں ایسا ہوا بھی ہے۔ سموگ کے باعث پھیپھڑوں کی بیماریاں جیسے   ایستھما اور برونکائٹس بہت عام ہو گئی ہیں سموگ الزائمز کی بیماری کا بھی سبب بنتا ہے۔
نیو یارک ٹائم کے مطابق ، پاکستان کے شہر لاہور میں سموگ کا پانچواں دور چل رہا ہے۔ 2015 میں 60 ہزار لوگوں کی اموات ہوئیں جس کی وجہ صرف اور صرف سموگ اور ہوائی آلودگی بتائی جاتی ہے ۔ یہ اموات مختلف خطرناک بیماریوں کے لگنے سے بھی ہو سکتی ہیں اور مختلف خطرناک حادثات کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں۔ سموگ کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے۔
سموگ ہمارے لئے بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے حکومت نے کچھ اقدامات کیے ہیں ۔ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا ،شہری ترقی کے منصوبے کو عمل میں لانا، علاقائی ماحولیاتی آلودگی کنٹرول کرنا ،فصلوں کے جلانے پر پابندی، ایندھن کے استعمال میں کمی لانے کی کوشش کرنا وغیرہ پر قانون سازی کی گئی ہے۔ حال ہی میں دہلی نے سموگ کی شدت کا سامنا کیا ہے ۔لاہور ،بیجنگ، میکسیکو اور تہران بھی سموک کا شکار ہیں۔
اس آرٹیکل کے ذریعے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے سے ہم سب ہی دوچار ہیں ۔برائے مہربانی جو تدابیر حکومت نے اختیار کی ہیں ان پر عمل درآمد کریں تاکہ ہم سب مل کر اس  خطرے کا سامنا کرسکیں اور اپنے پیارے ملک پاکستان اور اپنے پیارے لوگوں کو بچا سکیں۔

عاصم محمود الیاس

میں ایک کالم نگار ہوں. لوگوں کی ذندگیوں، روز مرہ کے حالات و واقعات کے بارے می‍ں لکھنا میرا شوق ہے. اس لیے میری آپ سب سے گزارش ہے کہ میری تحریروں کو پڑھئں اور میرا ساتھ دیں. شکریہ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button