تعلیم

مطالعے کے چند بہترین اصول

مطالعے کے چند بہترین اصول
عابد حسین
لایبریری آفیسر انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد
کتاب ایک مخلصں دوست ہے ۔ کتا ب ہمیشہ پڑھنے والے کیلءے لکھی جاتی ہیں- اب اگر پڑھنے والے کتاب پڑھنا چھو ڑ دیں تو لکھنا بیکا ر ہو جا تا ہے ۔اگر آپ برے مجالس کے عا دی ہیں تو اسکا اثر آپ کی شخصیت کو متا ثر کرسکتی ہے۔ برے مجالس سےبچنے کیلءے کتاب سے دوستی کرنا بہتر ہے۔ ۔ انٹرنیٹ اور ٹی وی نے مطا لعے کو اچھا حا صہ متا ثر کیا ہوا ہے۔ اپنے بچوں کو انٹر نیٹ اور ٹی وی سے دور رکھا کریں۔اپنے بچوں کو کتاب پڑھنے کی عادت ڈال دیں۔ ایک وقت تھا جب انسان کتابوں سےاپنے دل کو بہلاتے تھے۔ اب یہ ٹرینڈ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کہا جا تا ہے کہ مطالعے سے شخصیت میں نکا ر اور ذہن کا بو جھ ہلکا ہو تا ہے۔ انسان کو مواقع ڈھونڈنے میں دیر نہیں لگتی ۔ پڑھا ءی سے انسان میں تمیز آجا تی ہے ۔ پڑھنے والے ہمیشہ اچھے عہدوں پہ پہونچ جا تے ہیں ۔ ایک پڑھے لکھے انسان اور ان پڑھ انسان میں زمیں آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ پڑھنا ایک اچھی عادت ہے جسکو آپ ا ختیا ر کرنا چاہتے ہیں لیکن شروع کیسے کریں ۔ پڑھا ءی کو فروغ دینے کے متعدد طریقے ہیں۔ لیکن چند بہترین اصول ہے جس سے آپ اپنے مطالعے کی عادت کو بڑھا سکتے ہیں ۔ پہلے ، اس بات کا احساس کریں کہ اگر آپ کے پاس اچھی کتابیں ہیں لیکن پڑھنے کا دل نہیں کرتا۔ اس وقت آپ کوءی ایسی کتاب اٹھاءے جس سے آپ کا دل بہل جاتا ہے۔ اپنے پڑھنے کو خوشگوار بناءے ۔ اپنی مرضی کی کویء بھی کتاب اٹھا ءے اور اسکو پڑھنے سے اپنے آپ کو لطف اندوز کر یں۔ شروع میں وہ کتاب بہت بری لگتی ہوگی لیکن آہستہ آہستہ وہ کتاب آپ کو پڑھنے میں مزہ دیگی ۔ یہا ں ایک با ت کو ذہن میں رکھءےگا کہ جس مصنف نے یا مصنفہ نے یہ تحریر لکھی ہوگی کتنی مشکلات سے دو چار ہو گءے ہونگے ۔آپ اس مصنف یا مصنفہ کی تکلیف اور ٹاءم ذہن میں لاءےتو پھریقینی طور پر کتاب پڑھنے میں مزہ آیءگا ۔ ابتدائی طور پرپڑھاءی کیلءے ایک وقت مقرر کریں کہ اسی ٹایم میں نے مطا لعے کے علاوہ کویء کا م نہیں کرنا ہے مقررہ اوقات میں آپ کم از کم 5-10 منٹ پڑھیں گے تو آپ کو ہر دن کے دوران آہستہ آہستہ پڑھاءی میں دلچسپی بڑھیگی۔ ہمیشہ اپنے ساتھ کتاب لے کر جائیں آپ جہاں بھی جائیں ، ایک کتاب اپنے ساتھ لے جائیں۔ جب بھی گھر سےیا آفس سے نکل جاءے کتاب لینے کی عادت یقینی بناو- آپ ان تمام عمدہ کتابوں کی فہرست رکھیں جو آپ پڑھنا چاہتے ہیں یعنی ان کتابوں کی ایک فہرست بناؤ جو لوگی یا اساتذہ آپ کو تجویز کرتے ہیں۔ خاموش جگہ تلاش کریں، جہا ں پر شور شرابہ نہ ہو جس سے آپ کی دھیان صرف مطالعے پر ہو نہ کہ ادھر ادھر۔ یا اپنے گھر میں ایسی جگہ ڈھونڈیں جہاں آپ آرام دہ کرسی پر بیٹھ سکیں اور پڑھاءی پر توجہ دے سکیں ۔ ٹیلیویژن / انٹرنیٹ کو کم سے کم استعمال کریں آپ اگر واقعی میں پڑھنا چاہتے ہیں ، ٹی وی یا انٹرنیٹ کے استعمال سے پڑھا ءی اچھی حاصی متا ثر ہوتی ہیں تو اس عا دت کو کچھ دیر کے لءے ترک کریں۔ تما م مصنفین اور عنوان کی لسٹ مینٹین رکھناکہ کس مصنف نے کیا کیا تحریر لکھی ہے۔ اسکو لاگ بک کہتے ہیں اور یہ بھی پڑھنے کی فہرست کی طرح ہی ، اس لاگ میں نہ صرف ان کتابوں کا عنوان اور مصنف ہونا چاہئے جو آپ پڑھتے رہتے ہیں ، بلکہ جن تاریخوں کو آپ شروع کرتے ہیں اورجس دن تم ختم کردیتے ہیں دونوں تا ریخوں کو قلم بندکیا کریں۔ مطالعے کے شو قین حضرات اول تو بک سٹال پر تشریف لے جاتے ہیں جہاں سےہر کوءی اپنی دلچسی کی کتابیں خرید سکتے ہیں نہیں تو استعمال شدہ کتابوں کی دکانوں پر جائیں اور وہاں سے مرضی کی کتابیں نہایت کم قیمت میں خریدیں۔ کتب خانہ کے دورے کے لئے کچھ دن طے کریں اور وہاں با قایدگی سے وزٹ کریں۔لایبرییر ی عملے سے دوستی رکھیں ، وہ آپکو اچھی کتا بوں سے روشناس کرواءینگے ۔ گھر میں ایک الماری بنایں جہاں آپ اپنی مرضی کی کتابیں خوبصورت انداز میں سجاءے تاکہ کتاب پڑھنے کا دل کریں۔ آج کل تو انٹر نیٹ کا زمانہ ہے اپنی مرضی کی کتابیں انٹر نیٹ پہ تلاش کریں اور کسی قریبی بک سٹال سے انہی کتا بوں کو خریدیں۔ لیکن یاد رکھیں انٹرنیٹ پہ پڑھا ءی سے گریز کریں۔ کیونکہ یہ آپ کے دل ودماغ اور نظر کو یقینی طور پر خراب کر سکتی ہے۔ یہی چند بنیادی اصول تمھیں مطالعے کی عادی بنا سکتے ہیں اور آپ ایک اچھے ، سلجھے اور مہذب انسان بن سکتے ہیں۔

Abid Hussain

عابد حسین لایبریری آفیسر انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button