شوبز

آپ بھی امیر ہو سکتے ہیں

قدرت کا تو پتہ نہیں مگر پاکستان میں کچھ ویل ٹرینڈ گروپس اپنے ویل ٹرینڈ لوگوں کے ذریعے آپ کو ہر نئے روز امیر ہونے کا پورا پورا موقع فراہم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہےآپ لوگ کیوں ان پر یقین نہیں کرتے۔ یہ گروپس یہ لوگ بلکہ یہ باقاعدہ نیٹ ورکس وہ ہیں جو آپ کو موبائل پر ایس ایم ایس اور کالز کے ذریعے بتاتے ہیں کہ فلاں ٹی وی کے پروگرام جن میں سرفہرست “پاکستان جیتو” اور ان سے بھی زیادہ مشہور “بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام” وغیرہ کے حوالے سے آپ کو لاکھوں روپے، ڈیڑھ تولہ سونا اور ساتھ ایک عدد کار نکلی ہے۔ بس جلدی کیجیے اور دیے گئے متعلقہ نمبر پر اتنے روپے کا ایزی پیسہ یا لوڈ کروادیں تا کہ آپ کی فائل آخری مرحلے کے لیے بھیجی جائے۔
ایسی صورتِ حال میں ہم میں کچھ زیادہ سیانے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ جن کو امیر ہونے کی غالباً ہم سے بھی زیادہ جلدی ہوتی ہے۔ میسج دیکھتے اور اس طرح کی پر اسرار کال سنتے ہی پر جوش کچھ زیادہ ہی ہو جاتے ہیں اور بنا تحقیق کیے جیسے کال والے نے ہدایات جاری کی ہوتیں ہیں ویسا کرنے دوڑ نے لگتے ہیں جیسے واپسی اسی برینڈ نیو کار پہ ہو گی جس کی کال پہ اطلاع دی گئی تھی۔یہ لوگ اسی لالچ میں فوری ردِ عمل دکھائیں گے اور اپنے جیب سے مزید پیسے بتائے ہوئے نمبر پر ایزی پیسہ یا بیلنس کی شکل میں کروا بیٹھیں گے۔کیو ں کہ اس وقت ان سیانے لوگوں کی خوشی کے احساسات ہی کچھ اور ہوتے ہیں۔ شاید اتنی روحانی خوشی مقبوضہ کشمیر والوں کو آزادی ملنے پر نہ ہو جتنی اس وقت یہ لوگ محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔اس وقت ایک لمحے کے لیے خوابوں کی دنیا میں چلے جاتے ہیں اور ہمارے دماغ میں حقیقت کو سمجھنے کی بجائے لاکھوں روپے، سونا اور کار کے خیالات ابال کھا رہے ہوتے ہیں۔اس طرح جو کچھ جیب میں ہوتا ہے وہ بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے اس طرح کی بے شمار فراڈ والی کہانیاں سنی ہوتی ہیں مگر پھر بھی ہم ایک میسج یا کال آنے پر اتنی جلدی یقین کیوں کر لیتے ہیں۔اس کی شاید دو بڑی وجوہات ہیں جن میں پہلی ‘لالچ’ اور دوسری یہ کہ ہم ہر کام میں جلدی کرنا چاہتے ہیں اور چونکہ جذبات ہماری طبیعت کا حصہ ہیں اس لیے جذباتی اور جلدی کی کیفیت میں ہم بعض اوقات کسی بھی معاملے کی تحقیق کرنا بالکل بھی گوراہ نہیں کرتے اور بھاری نقصان اٹھا لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ منظم نیٹ ورک جو پورا پورا ویل ٹرینڈ لوگوں کے ایک خاص گروہ پر مشتمل ہوتا ہے یہ ہماری لالچی عادت، ہر کام میں جلدی اور ہمارے تجسس سے بھر پور فائدہ اٹھاتا ہے۔
اب آخر میں ایک فکری سوال کرنا چاہوں گا شاید اس سے کسی کا بھلا ہو سکے:
ایک مزدور جسے سارا دن سخت محنت و مشقت کے بعد محض 600روپے دیہاڑی ملتی ہےوہاں یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ نے کیا بھی کچھ نہ ہو حتی کہ کبھی میسج تک بھی نہ کیا ہوتو آپ کو کون اور کیسے لاکھوں روپے مفت میں دے سکتا ہے؟
سوچیئے گا ضرور!!!

ندیم چوہدری

Teacher & Inspirational Story Writer

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!