اسلامک

اپنے اخلاق درست کیجئے

*اپنے اخلاق درست کیجئے*
ہم کو چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ الفت، محبت اور اتفاق سے رہیں آپس کی دوریوں کو ختم کر دینا چاہیے ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ہم تو اس دنیا میں عارضی ہیں ایک نہ ایک دن یہاں سے چلے جانا ہے تو پھر یہ نفرتیں یہ دوریاں یہ بے اتفاقیاں کیوں ہیں یہ بے لذت سی زندگی اس سے نہ ہم کو کوئی نفع ہے نہ نقصان دنیا کے اعتبار سے لیکن آخرت کے اعتبار سے ہم دیکھیں تو بہت نقصان ہے
آپ نے دیکھا ہو گا جو لوگ دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں وہ ہی اس دنیا میں زندہ رہتے ہیں زندہ رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کو موت نہیں بلکہ زندہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انکا نام زندہ رہتا ہے
جیسے سنیار جب کسی دھات کو پگھلاتا ہے تو جو چیز نفع دیتی ہے وہ نیچے رہ جاتی (سونا وغیرہ) اور جو چیز فائدہ مند نہیں ہوتی جیسے جھاگ وغیرہ تو وہ اوپر سے ختم ہو جاتی ہے یہ ہی مثال ہے ان لوگوں کی جو لوگوں کو نفع پہنچاتے ہیں انکا نام باقی رہتا ہے
ہم اچھا بنیں تاکہ لوگ ہمارے ساتھ اچھا کریں اور اس دنیا میں اپنا نام اپنے اپنے اچھے کردار کی وجہ سے زندہ رکھ سکیں اپنے اخلاق اچھے ہوں گے تو لوگ ہمارے قریب ہوں گے اور لوگ قریب ہوں گے تو ہی ہم لوگوں سے دین کی بات کر سکے گے ہم کو چاہیے کہ ہم اپنی زبان پر جتنا ہو سکے قابو پائیں کیوں کہ زبان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ یا تو شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے اور یا پھر تلوار سے زیادہ تیز ہے
دراصل آجکل ہم لوگ ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور ہو گئے ہیں ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہوئے بھی بہت زیادہ دور ہیں وہ اس وجہ سے آجکل ہماری زندگی بلاوجہ بہت مصروف ہو گئی ہے ہم ایک دوسرے کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں لیکن بظاہر تو پاس ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں دور ہوتے ہیں
اگر مثال کے طور پر ہم تین آدمی بیٹھے ہیں تو تینوں اپنے اپنے سیل فون میں لگے ہوئے نظر آئیں گے ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بہت کم نظر آئیں گے ہم کو چاہیے کہ جب ہم دوست احباب میں بیٹھیں ہوں یا گھر میں ہوں تو مکمل طور پر انکی طرف متوجہ ہوں
اور دوسری بات کے ہم اپنی زبان پر کنٹرول رکھیں حدیث شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھے دو چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمھیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں وہ دو چیزیں یہ ہیں ایک تو دونوں جبڑوں کے کے درمیان میں جو ہے یعنی زبان اور دوسری چیز جو دونوں رانوں کے درمیان میں ہے یعنی شرمگاہ
تو ہم کو چاہیے کہ جب بھی ہم گفتگو کریں تو پہلے سوچیں پھر تولیں اور پھر بولیں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو مکارم اخلاق کا پیکر بنائے آمین ثم آمین
تحریر :حافظ سیف الرحمن چاند

Hafiz Saif-Ur-Rehman Chaand

زندگی کا سکون نماز میں ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button