TECH

2021 میں نظر آنے والی ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان اور جدید بنا دیا ہے۔ وہ کام جن کو ہم کرنے میں کہی کہی دن لگا دیتے تھے وہ ہم آج چند منٹوں میں سرانجام دی سکتے ہیں۔
آۓ روز ٹیکنالوجی اشیاء جیسا کہ موبائل فونز، کمپیوٹرز اور اس سے جڑی دوسری الیکٹرانک اشیاء کو جدید سے جدید تر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آج ہم اس ٹیکنالوجی کی بات کریں گے جو ہمیں 2021 میں ممکنہ طور پر پوری ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

(1) 5جی ٹیکنالوجی

5جی پر گزشتہ برس سے ہی کام جاری ہے۔ اس کے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کامیاب تجربات بھی کیے جا چکے ہیں۔ ابھی تک یہ ٹیکنالوجی عوام تک پوری طرح نہیں پہنچی لیکن امید کی جا رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اسی سال عوام پہنچ جائے گی۔
یعنی کہ بجلی کی رفتار سے چلنے والا انٹرنیٹ لوگوں میسر آجانے گا۔
اس ٹیکنالوجی کے آنے سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔
اس کہ زریعے نہ صرف ہم انٹرنیٹ پر سرچنگ کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ہم وہ تمام گیمز جو 4جی انٹرنیٹ پر ہمیں کھیلنے میں مشکل پیش آرہی تھی ان کو ہم 5جی انٹرنیٹ پر با آسانی کھیل سکتے ہیں۔
5جی صرف انٹرنیٹ کی سپیڈ نہیں بلکہ یہ باقاعدہ ,ٹیکنالوجی، ہیں۔ جس جس کے ذریعے ہم اربوں ڈیوائسز ایک ساتھ منسلک کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ورچوئل رئیلٹی اور آرٹی فیشل انٹیلیجنس میں یہ ٹیکنالوجی بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

(2) آی سپورٹس

گزشتہ برس کرونا وائرس کی وجہ سے مختلف کاروبار اور سیاحتی مقامات کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگادی گئی۔ لیکن صورتحال بہتر ہونے پر کھیلوں کے میدان پھر سے سکھائے گئے۔ لیکن تماشائیوں کو گراؤنڈ میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس طرح لوگوں نے ٹیلی ویژن پر ہی میچز کو انجوائے کیا۔
اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ای سپورٹس نامی منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ہمیں گھر میں بیٹھے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ہم گراؤنڈ میں موجود ہے براہ راست میچ انجوائے کر رہے ہیں۔

(3) آرٹیفیشل انٹیلیجنس

آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت ایک ایسی ٹیکنالوجی کا نام ہے جس کے ذریعے کمپیوٹرز انسانوں کی طرح سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کے قابل ہو جائے گے۔
لیکن اس میں خطرہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس قابل نہ ہو جائے کہ مستقبل میں انسانوں کو چیلنج کرنے لگے یا سیکیورٹی سسٹم ہیک کرنے کے قابل نہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو کچھ بھی سیکیور نہیں رہے گا اور ہمارا سارا ڈیٹا غلط ہاتھوں میں جاسکتا ہے۔
اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کمپنیاں کوشش کرتی ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے۔ اس ٹیکنالوجی میں اخلاقیات کا معیار بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے گوگل، ایمازون اور مائیکروسافٹ وغیرہ سر گرم عمل ہے۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے ایسا ضابطہ اخلاق مقرر کر دیا جائے جسے پار کرنا کسی بھی مصنوعی ذہانت کی حامل ڈیوائس کے لیے ممکن نہ ہو۔

(4) آٹو میشن روڈ میپس

یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کو ہم استعمال کر کے ہم آفس میں کیے جانے والے روزمرہ کے کام کسی انسان سے کرانے کے بجائے خودکار کمپیوٹرز میں منتقل کر دیتے ہے اور وہ کمپیوٹر خودکار طور پر ان کاموں کو سر انجام دے دیتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہمیں کرونا وائرس جیسے مہلک مرض کے دوران بہت زیادہ دیکھنے کو ملی۔ جب اس بیماری کی وجہ سے کئی سنعتیں تباہ حالی کا شکار ہو گئی، بہت سے کاروبار بند ہوگیے اور بہت سے لوگ بے روزگار ہو گئے۔ کیونکہ ان کے پاس اس بیماری کا کوئی علاج نہیں تھا۔
اس سے اکرچہ سینکڑوں افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گے لیکن وہ سنعتیں جو اپنے ملازمین پر انحصار کرتی ہے وہ تباہ ہونے سے بچ جائیں گی۔

(5) ڈیجیٹل ہیلتھ

ہیلتھ انسانی زندگی کا ایک اہم شعبہ ہیں جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے انسانی صحت کے حوالے سے کچھ خاص اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے، یہی وجہ ہے کہ جب اس مہلک مرض نے اچانک حملہ کیا تو امریکہ سمیت دنیا بھر کا صحت کا نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ اسی نظام کو بہتر اور جدید بنانے کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او صحت ایک ایسا نظام لانے کی کوشش کر رہا ہے جہاں دنیا کے تمام لوگوں کو ایک مربوط نظام کے تحت علاج معالجہ کیا جا سکے۔ یعنی اس کی ذمےداری صرف مختلف ملکوں کی حکومتوں کی نہیں بلکہ اس کی زماداری اقوام عالم کی مشترکہ ہوجاۓ گی۔ اس میں کوشش کی جائے گی کہ تمام بڑی بیماریاں جیسا کہ کرونا وائرس کینسر، ہیپاٹائٹس، پولیو، ڈینگی اور ملیریا وغیرہ کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button