اسلامک

ایک بد صورت غلام کی قسمت بدل گئی

ایک بد صورت غلام کی قسمت بدل گئی
ایک مرتبہ کا ذکر ہےکہ حضورﷺصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک لشکر کےساتھ سفرمیں تھے کہ پانی ختم ہو گیا، سب پر پیاس کی شدت نے غلبہ پالیا حضور سرور کائنات ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ حکم دیا کہ وہ پانی کی تلاش میں نکلیں ابھی وہ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ انہیں ایک حبشی غلام اونٹ پر سوار جاتا ہوا دکھائی دیا، اس کےپاس ایک مشکیزہ تھا اسے جب کہا گیا کہ وہ حضورﷺ کےچلا آئیے تو اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا میں تو اس جادوگر کے پاس کبھی بھی نہیں جاوٗں گا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس حبشی غلام کو زبردستی حضورﷺ کے پاس لے آئےحضورﷺ نے حبشی سے مشکیزہ لے کر پانی پیا اور اپنے برتنوں میں بھر لیا مویشیوں کو بھی سیراب کیا مگر وہ مشکیزہ اسی طررح پانی سے بھرا ہوا تھا ۔ جیسے حبشی غلام کے حوالے کر دیا گیا حبشی کے مشکیزہ سے ایک گھونٹ بھی پانی کم نہ ہوا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے مال سے کچھ نہ کچھ اس غلا م کو دیا وہ حبشی حضورﷺ کا معجزہ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔
حضور ﷺ نے اپنا دست شفقت اس کے حبشی کے سیاہ چہرے پر پھیرا تو وہ دست مبارک کی برکت سے چاند کی ماند خوب صورت ہوگیااور دکھائی دینے لگا حبشی غلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ دیکھ کر بڑا ہی متاثر ہواآگے بڑھا اور حضورﷺ کے دست مبارک کو بوسے دنیے لگا اس کے ساتھ ہی اس نے اسلام قبول کرلیا اورپھر اپنے قبیلہ کی طرف چل دیا اس کے خوب صورت چہرے کو دیکھ کر حبشی غلام کے مالک نےکہا ، یہ اونٹ تو میرا ہے ، مشکیزہ بھی میرا ہے لیکن یہ سوار میرا غلام نہیں ہے۔ غلام کہنے لگا کہ میں ہی آپ کا غلام ہوں۔ اس کے مالک نے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا میرا غلام تو سیاہ شکل کا بدصورت آدمی تھا مگر تم چاند کی مانند سفید اور خوب صورت ہو۔
حبشی غلام نے اپنے مالک کو یقین دلانے کی کافی کوشش کی مگر مالک نے اسے پہچاننے سے انکار دیا اس پر غلام نے صورت حال بیان کر کے مالک کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا اس کے ساتھ ہی اس نے مالک کے گھر کے تمام حالات اور بعض دوسری علامات بتائیں تو اس سے مالک کو یقین ہوگیا کہ وہی غلام ہے۔
اب حبشی کا مالک بھی اس سے سارا واقعہ سن کر بہت متاثر ہوا اور حضورنبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام کی دولت سے مالا مال ہو گیا اور غلام کو آزاد کر دیا۔

ANWAR UL HAQ

انوارالحق عباسی پی ایچ ڈی (اسلامک سٹدیز) سکالر

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button