افسانے

چالاک طوطا .

ایک آدمی نے بہت شو ق سے ایک طوطا پال رکھا تھاوہ بہت اس سے پیار کرتا تھااسے چوری کھلاتا تھا. اس کی دیکھ بھال کرتا تھا لیکن طوطا پھر بھی اتنا خوش نہیں تھا پنجرے میں پریشا ن نڈھال ہو کر بیٹھا رہتا تھامالک اسے خوش کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے پھر بھی وہ خوش نہی ہو تا ایک دن اس آدمی کو کام کے سلسلے میں کہیں باہر جانا تھا۔ وہ اپنا سامان پیک کرنے لگتاہے اس نے پردیس جاتے وقت۔اپنے بیٹے سےپوچھا بیٹا بتاؤ آپ کے لیۓوہاں سے کیا لے کے آؤں ںبیٹے نےکہا ابو میرے لیۓ مبائیل لے کر آنا پھر اس نے اپنی بیٹی سے پوچھااس نے کہا ابو میرےلیۓ چوڑیاں لے کر آنا۔پھر اس نے طوطے سے پوچھا میاں مٹھو آپ کو کیا چاہیے کیا لے کے آؤں ۔ میاں مٹھو کہتا ہے جب آپ وہاں پہنچو۔تو بچوں کی چیزیں خریدنے کے بعدوہاں ایک جنگل ہے جس کا نام ہے ڈرونا جنگل ڈرونے جنگل میں جاکر وہاں ایک درخت ہے جس کا نام ہے جھاڑی درخت جھاڑی درخت کے نیچے کھڑے ہو کر اوپر بیٹھے طوطوں کو کہنا۔تمہارا بھائ جو میرے پاس ہے وہ سلام کہتاہے۔ وہ آ دمی کہتا ہے میں ڈرونے جنگل میں جھاڑی درخت کے نیچےجا کران طوطو ں کو تمہارا سلام ضرور دوں گا ۔پھر وہ سفر کے لۓ روانہ ہو جا تا ہے ۔وہاں جا کر سارے کام ختم کر کے ۔ڈرو نے جنگل میں جا تا ہے پھر جھا ڑی درخت ڈھو نڈ کر طو طے کا سلام کہتا ہے وہ جب طوطے کا سلام کہتا ہے طو طے کا سلام دیتے ہی ایک طوطا نیچے گر کر تڑپنے لگتا ہے تڑپتے تڑپتے پھر رک جاتا ہے اور آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔وہ آدمی یہ دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے اور سو چتا ہے میں نے سلام نہیں دینا تھا میرے سلام دینے سے طوطا بیچا رہ تو مر گیا ہے خیر پھر ۔پھر جب وہ اپنا کام ختم کرکےواپس گھر آتا ہےاپنے بچو ں کو بلاتا ہے ۔اپنے بیٹے کو مبائیل دیتاہے اور بیٹی کو چو ڑیاں دے کر جب میاں مٹھو کے پاس آکر اسے سارا واقعہ سنایا۔تو میاں مٹھو بھی پنجرے میں گر گیا اور تڑپنے لگا اور پھر آنکھیں میٹ کر مرنےکی ایکٹنگ کرنے لگا ۔مالک بہت پریشان ہو گیا تھو ڑی دیر رونے کے بعد طوطے کو باہر پھینکتا ۔ہے تو طوطا اچا نک اڑ کر درخت پر بیٹھ جاتا ہے اور مالک پریشان ہو کر طوطے سے پو چھتا ہے۔یہ کیا ماجرہ ہے۔طوطا مسکرا کر کہتا ہے۔یہ کو ئ ماجرہ نہی ہے دراصل۔جس طوطے کو آپ نے میرا سلام دیا اور وہ گر گیا۔وہ مجھے آزادی کا طریقہ بتا رہا تھامیں آپ کے ذریعے پونچھ رہا تھامیرے لیۓ۔میری آزادی ہی بڑی خوشی ہے۔جو مجھے مل گئ ہےپھر طوطا خوشی سے اڑ جاتا ہے اور مالک گھر آجاتا ہے۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!