افسانے

پتھر کا بھوت ( پارٹ 2)

پتھر کا بھوت ( پارٹ 2)

جہاں جاؤ گے تمہارے سامنے لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا وہ طلسمی لکڑی ہوگی جو بھی انہیں دیکھے گا منہ مانگی قیمت دے گا لیکن یہ راز بھی کسی کو نہیں بتاؤ گے
ٹھیک ہے پتھر کے بھوت میں اب محنت کروں گا
رمضانی بولا
وہ رسی اور کلہاڑا لے کر جنگل میں پہنچا کچھ ہی دیر میں اس کے سامنے لکڑیوں کا ڈھیر لگ گیا لکڑیوں کو رسی سے باندھا اور شہر چل دیا
شہر پہنچ کر وہ لکڑیاں اس نے فروخت کر دی جب گھر لوٹا تو اشرفیاں اور کھانا اس کے پاس تھا
بیٹے نے ماں کو بتایا کہ بابا چور نہیں ہے بلکہ محنت کی کمائی گھر لاتے ہیں جنگل سے لکڑیاں شہر لے جاتے ہیں اور بیچ کر اشرفیاں اور کھانا لاتے ہیں
بیوی اور بیٹے کا دل صاف ہو گیا انہوں نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی
کچھ روز گزرے تو رمضان کو لکڑیوں کا کاروبار میں لاکھوں کا نفع ہوا اور وہ لکڑی کا بہت بڑا تاجر بن گیا اب لوگوں نے پھر شک کرنا شروع کر دی اس کا مقدر پنچایت میں پیش کر دیا لوگوں نے ہر طرح کے الزام لگائے وہ سب سنتا ہے رمضانی کے بیٹے گل شیر نے اپنے باپ کی طرف سے وضاحتیں پیش کیں لیکن پنچایت والے رمضان کے منہ سے جواب سننا چاہتے تھے
آخر جب رمضانی نے کوئی جواب نہ دیا تو اسے گاؤں سے نکال دیا گیا رمضانی گاؤں سے شہر میں آ گیا رمضان کے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے لیکن وہ ہر وقت اداس رہتا تھا اسے اپنا گاؤں بہت یاد آتا تھا گل شیر اسے تسلی دیتا لیکن رمضان گاؤں کی یاد میں گھٹتا رہا تھا
اور یوں وہ بیمار ہو کر چارپائی سے لگ گیا گلشیر باپ کی وجہ سے بہت فکرمند تھا وہ حکیم کے پاس گیا اس نے چند جڑی بوٹیوں کے نام لکھ کے دیے وہ انہیں تلاش کرتا ہے صحرائے لالہ زار پہنچ گیا صحرا میں مکمل خاموشی تھی لیکن وقفے وقفے سے چیخوں کی آواز سنائی دے رہی تھی اس نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا پھر ایک پتھر کے قریب جا کر کان لگا کر آوازیں سننے لگا
کون ہو تم۔۔۔۔۔۔
شیر گل نے پوچھا۔۔۔۔۔
میں پتھر کا بھوت ہوں
پتھر کے بھوت۔۔۔۔۔۔
وہ حیران ہو کر بولا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔
یہ کون رو رہا ہے۔۔۔۔۔۔
گلشیر یہ میری بیٹی ہے سردار بختاور مار رہا ہے
تم ہو کہاں شیر گل نے ادھر ادھر دیکھا
بھوت نے کہا ۔۔۔۔۔۔
میں پتھر کے اندر قید ہوں اور میری بیٹی کوہ قاف میں ہے
کوہ قاف میں وہ اس کے رونے کی آوازیہاں سنائی دے رہی ہیں
وہ بولا ہاں وہ بہت ظالم ہے میری بیٹی کو ہر روز مارتا ہے
گل شیر نے پوچھا۔۔۔۔
وہ کیوں مارتا ہے ۔۔۔۔
بھوت نے کہا۔۔۔۔۔۔
وہ میری بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن میری بیٹی رضا مند نہیں ہے اور میں نے بھی انکار کردیا
تب اس نے مجھے پتھر کے اندر قید کر دیا اور میری بیٹی کو کوہ کاف کے جیل خانےمیں رکھا ہوا ہے
گل شیر نے کہا۔۔۔۔۔۔
میں تمہاری بیٹی کی مدد کروں گا

Shafique Ahmad

ہم آپ کو بہترین انفارمیشن provide کریں گے تھنکس

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button