BUSINESS

پاکستان کے جنگلات

*** جنگلات ***

کسی ملک کی معاشی ترقی کے لیے جنگلات کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ ماہرین کی رائے کے مطابق کسی ملک کی متوازن معیشت کے لئے کل رقبے کا 25 فیصد علاقہ زیر جنگلات ہونا ضروری ہے لیکن پاکستان میں جنگلات کل رقبے کے پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہیں ۔ اس طرح پاکستان کے کل رقبے کے 19 کروڑ 70 لاکھ ایکڑ سے صرف ایک کروڑ رقبے پر جنگلات موجود ہیں ۔

*** پاکستان کے جنگلات ***

۱۔ شمال اور شمال مغربی جنگلات :
پاکستان کے شمال اور شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں بارش کثرت سے ہوتی ہے اس لیے وہاں سدا بہار جنگلات پائے جاتے ہیں۔ ان جنگلات میں دیودار، صنوبر ،کیل، پڑتل اور چیل کے درخت پائے جاتے ہیں ۔ یہ لکڑی عمارتیں اور فرنیچر بنانے کے لیے بہت عمدہ ہوتی ہے ۔یہ جنگلات آزاد کشمیر ،ضلع راولپنڈی کے شمالی حصے، ہزارہ اور مالاکنڈ،دیر، سوات، چترال اور مہمند ایجنسی میں پائے جاتے ہیں ۔ ان جنگلات کے ساتھ شاہ بلوط، اخروٹ اور کالا کاٹھ کے جنگلات بھی پائے جاتے ہیں ۔

۲۔ مغربی پہاڑی علاقے کے خشک جنگلات :
مغربی پہاڑوں پر بارش کم ہونے کے باعث وہاں چھوٹے قد کے درخت پائے جاتے ہیں جو زیادہ تر ایندھن کے کام آتے ہیں۔ کوئٹہ کے سرد اور خشک علاقے میں چلغوزے اور مازو کے درخت پائے جاتے ہیں ۔

۳۔ تلہٹی کے جنگلات :
شمالی پہاڑی علاقوں کی بلندی جنوب کی طرف کم ہوتی چلی جاتی ہے وہاں چھوٹے قد کے چوڑے پتوں والے درخت پائے جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر شیشم ،پھلاہی ،کیکر اور جنڈ کے درخت پائے جاتے ہیں۔ شیشم کی لکڑی فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے ۔

۴۔ بیلے کے جنگلات :
دریاؤں کے کناروں اور دریاؤں کے پاٹ کے درمیان خشک علاقے کو بیلا کہا جاتا ہے۔ ان بیلوں میں چوڑے پتوں والے جنگلات پائے جاتے ہیں ۔ ان میں شیشم، کیکر اور جنڈ کے درخت عام ہیں ۔

۵۔ ساحلی جنگلات :
مکران اور سندھ کے ساحلی علاقے میں جہاں سمندر کا پانی مد وجزر سے چڑھتا اترتا رہتا ہے وہاں ناریل کے درخت ملتے ہیں ۔ یہ ساحلی جنگلات کہلاتے ہیں۔

۶۔ نہری جنگلات :
نہروں کے کناروں کے ساتھ درخت لگائے گئے ہیں اور بعض جگہوں پر نہرو ں کے ذریعے آ بپاشی کرکے منصوبہ بندی سے ذخیرے لگائے گئے ہیں ۔ ایسے جنگلات میں چھانگا مانگا، چیچہ وطنی، خانیوال، بورے والا، تھل، شورکوٹ، بہاولپور ،سکھر ، تونسہ ،گدو اور کوٹری میں اگائے گئے ہیں ۔ ان جنگلات میں شیشم، کیکر، دریک اور پھلاہی کے درخت ملتے ہیں ۔

۷۔ کناروں کے درخت :
دریاوں،نہروں، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے کناروں کے ساتھ ساتھ بھی بہت سے درخت لگائے گئے ہیں۔ یہ درخت نہ صرف علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ آب و ہوا میں بھی خوشگوار تبدیلی لاتے ہیں ۔

۸۔ جھاڑیاں :
کوہ سلیمان کےدامنی علاقے، سکھر، مظفرگڑھ، ڈیرہ عازی خان، وزیرستان، بہاولپور، بہاولنگر ،رحیم یار خان میں بارشیں کم ہونے کی وجہ سے وہاں جھاڑیاں اگتی ہیں جن پر اونٹ،مویشی اور بھیڑ بکریاں پالی جاتی ہیں۔

Hamid Ali Shah

I am Student of Bsc & I fond of Writing

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button