بریکنگ نیوز

خون نا حق بھی پکارے گا پشیماں ہو کے اب کہ جا نہیں ہے زمینوں میں بے اماں ہو کے

نسان یعنی ابن آ دم دین فطرت پہ پیدا ہوتا ہے اور مقررہ وقت گزار کے واپس راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی تقدیر، رزق و ملکیت لے کے آ تا ہے اور اسی کو استعمال کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ کہیں ،جسی بھی جگہ ایسا کوئی شائبہ تک نہیں کہ کسی نے کسی دوسرے شخص کا حصہ ۔ملکیت ۔جسم۔ چہرہ یا رزق لے کے دنیا میں وقت گزارہ ہو یہ ناممکن ہے کیوں کہ چھین کے لیا گیا نوالہ بھی جانے والا اسی دنیا میں چھوڑ کے جاتا ہے۔ ہمراہ کوئی ذاد راہ نہیں سوائے اعمال کے۔
ایسے میں دنیا میں آ مد، قیام و رخصت بھی ایمان با التقدیر کا حصہ بن جاتا ہے۔
مگر افسوس کا مقام وہ جنگ ہے جو پرامن شہری کو محفوظ پناہ گاہ سے محروم کر دیتی ہے۔ معصوم انسانوں کو فرقوں میں بدل دیتی ہے۔ را و داعش سے ہوتی ہوئی زینیبیون و فاطمیون تک جا پہنچتی ہے۔ تعلیمی ادارے بھی اس سے نہیں بچ پاتے۔ معصوم ذہنوں میں انڈیلا جانے والا زہر بے وفائی و غداری کے ان جنگلات و ویرانوں میں جا کے کھلتا ہے جہاں قتل و غارتگری مقصود بن جاتی ہے۔
دل دکھتا ہے بے گناہوں کی خون ریزی پہ مگر شدت پسندی نفرتوں کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ دشمن ایک بار پھر جیت کا جشن منا رہا ہے اور کوئٹہ کا بائ پاس روڈ لاشیں سجائے آ ہ و بقا کا منظر پیش کر رہا ہے۔
برس ہا برس بیت گئے ہم تقسیم در تقسیم کے اصولوں پہ کٹتے چلے گئے مگر حاصل صفر رہا۔ وطن عزیز بہتے خون دیکھنے اور ہم وطن لاشیں اٹھانے کے عادی ھو گئے ہیں مگر تاحال شعور کا وہ پہلو جو سچ کو سچ ثابت کر سکے ہنوز دلی دور است کے مترادف ہے۔
کیا حکومت کا مستعفی ہونا مسئلے کا حل ہے۔ 2013 میں بھی تو کوئی دوسری حکومت تھی پھر ایسا کیوں ہوا ۔ حکومت کی تبدیلی میں وقتی سیاسی فوائد تو پیش نظر ہو سکتے ہیں مگر دور رس نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
ہزارہ کمیونٹی بہترین بزنس مین تصور کئے جاتے ہیں تعلیم اور کھیل میں بھی پیش پیش رہتے ہیں مگر جہاں وطن دوستی کا معاملہ آ تا ہے وہاں ذاتی مفادات کو ترجیح دینا بعید از قیاس ہے۔ کیا ابھی تک ہم دوست دشمن کی پہچان سے عاری ہیں۔ صرف مذہب و فرقے کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ آ ج تک کسی جوان فوجی کی میت سڑک پہ رکھ کے حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں کیا گیا کیوں کہ وہ دھرتی ماں سے وفادار ہیں جانتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں اور سچ تو یہی ہے کہ یہ معصوم 11 افراد بھی دشمن کی چال کا ہی شکار ہوئے ہیں مگر فرق صرف یہ ہیں کہ آ ج مفاد پسند عناصر ان حالات کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔
کون کہتا ہے کہ یہ بہنے والا لہو بے گناہ نہیں۔ اس کا درد دلوں میں جا گزیں نہیں۔ ان کو ایک آ زاد وطن میں جینے کا حق نہیں اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت نہیں
مگر اس وقت حقائق کو سمجھنے، اپنے پیاروں کی لاشوں کی اس طرح بے حرمتی کرنے اور یوں شدت کی جما دینے والی سردی میں اپنی بات پہ اڑے رہنا اور مطالبات کا منوانا کسی طرح مناسب دکھائی نہیں دیتا۔
چنانچہ اس وقت ہزارہ جیسی پر امن کمیونٹی کو بھی صبر کے ساتھ اس آزمائش سے گزرنا ہو گا۔ تا کہ آ نے والے وقت میں وہ ان حقائق کو سمجھ سکیں جن پہ بظائر چشم کشاں دکھائی نہیں دے رہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!