237 views 0 secs 0 comments

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا فیصلہ ایمان افروز واقعہ۔

In اسلام
January 08, 2021

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی اور ایک منافق میں کسی بات پر جھگڑا پیدا ہوگیایہودی چاہتا تھا کہ جس طرح بھی ہو میں اسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے چنانچہ وہ کوشش کرکے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیبرگاہ عدالت میں لے آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعات سن کر فیصلہ یہودی کے حق میں دیا

وہ منافق یہودی سے کہنے لگا میں تو عمر دل نہ ہوتا ہے کے پاس چلوں گا اور ان کا حصہ صلہ میں گلہ کروں گا یہودی بولا جی بالٹی آدمی ہوں کوئی بڑی عدالت سے ہو کر چھوٹی عدالت میں بھی جاتا ہے جب تمہارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ دے چکے تو اب عمر رضی اللہ ہو تعالئ عنہ کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے ہے مگر وہ منافق نہ مانا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے فیصلہ طلب کرنے لگا کہ یہودی بولا مولا جن اب پہلے یہ بات سن لیجئے کہ ہم اس سے قبل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ شخص اس فیصلے سے مطمئن نہیں اور اب یہاں یہ آپ کے پاس آ پہنچا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات سنی تو منافق سے پوچھا یہودی جو کچھ بیان کر رہا ہے درست ہے منافق نے کہا ہاں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں فیصلہ کر چکے ہیں اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اچھا ٹھہرو میں ابھی آیا اور تمہارا فیصلہ کرتا ہوں یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے اور پھر ایک تلوار لے کر نکلے پلے اور اس منافق کی گردن پر یہ کہتے ہوئے ماری مری کے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نام مانے اس کا فیصلہ یہ ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی تلوار کسی مومن پر نہیں اٹھتی کہ اللہ تعالی نے یہ آیت بھی نازل فرما دی

ترجمہ
اے محبوب خوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک آپ نے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں

عشق و وفا کا عجیب منظر۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار چھٹ دس آدمیوں کی جماعت اہل مکہ کی خبر لانے کے لئے بھیجی راستے میں بلور ہیں ان کے دو سوالوں سے مقابلہ ہوا بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں نے عہد میں اپنے مقتول کافر عزیزوں کے جوش انتقام میں ان حضرات کے فریب سے آپ نے یہاں بلایا میں شراب پیو گی جو اس عاصم کا سر لائے اسے سو اونٹ دوں گی