خواتین

حوا کی بیٹی کب تک روۓ گی

میرے مزہب اسلام نے تو عورت کو ایک عظیم مرتبے سے نوازا ہے ۔ اک بیٹی اور بہن کے روپ کو حیا اور وفا کا پیکر قرار دیا ۔ وہاں ماں جیسی عظیم ہستی کو ایک عظیم الشان رتبے سے نوازا ہے ۔ حدیث میں ارشاد ہے :

“جنت ماں کے قدموں تلے ہے”

حضور اکرمۖ نے اپنے آخری خطبے میں عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا ۔ لیکن آج کے دور میں بھی جہاں حکومت کی طرف سے بھی عورتوں کے حقوق کے لیے اتنے ادارے قاۂم ہو چکے ہیں ۔ پھر بھی حوا کی بیٹی رو رہی ہے ۔ کبھی حوا کے ہاتھوں کبھی آدم کے ہاتھوں کبھی وہی عورت ایک ساس یا نند ک روپ میں ایک عورت پر ظلم ڈھا رہی ہے تو کبھی شوہر یا پھر باپ بھائ یا بیٹے کے روپ میں عورت پر ظلم ہو رہے ہیں ۔ اک بیٹی پیدا ہوتی ہے تو ماں باپ تب سے اپنی بیٹی کے جہز کی تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ رشتے کی بات نکلتی ہے تو سو مطالبے لڑکے والوں کی طرف سے ہوتے ہیں ۔ اللہ اللہ کر کے شادی کی رسومات مکمل ہوتی ہیں ۔ چھ ماۂ یا سال بعد اسی بیٹی کو گھر سےساس نندوں یا شرہر سے لڑائ جھگڑوں کی وجہ سے نکال دیا جاتا ہے، پھر کیا ہوتا ہے ۔ اسی جہیز کو واپس لینے کے لیے اس بیٹی کو عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں ۔ وہ جہیز کبھی واپس نہیں آتا ۔ اگر واپس آتا بھی ہے تو چار پانچ سال عدالتوں کے دھکے کھا کر پھر بھی مکمل نہیں آتا ۔

پھر اگر ایک رشتہ سال دو سال چلا بھی جاتا ہے تو عورت مان بن جاتی ہے ۔ اسے کھانے پینے کو نہیں دیا جاتا ۔ ہر اچھی خوراک اس کی پہنچ سے دور کر دو جاتی ہے ۔ وہ عورت ماں بن بھی جاتی ہے تو پھر بچے چھین لیے جاتے ہیں ۔ ان بچوں کو حاصل کرنے کے لیے عدالتوں اور کچہریوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں ۔ اکر بچے مل جاتے ہیں ۔ تو ان بچوں کی پرورش کرنا اس عورت کے لیے بہت بڑا مسۂلہ بن جاتا ہے ۔ کیونکہ اک ماں حود بھہکی رہ سکتی ہے ۔ مکر اپنی اولاد کو کبھی بھوکا نہیں دیکھ سکتی ۔ اے کاش کہ میرے وطن میں کوئ ایسے ادارے بن جاۓیہاں بیواؤں اور طلاق یافتہ عورتوں کو اپنے بچوں کی پرورش آسان ہوجاۓ ۔ اور کوئ مرد عورت کو کسی کام کے لیے مجبور دیکھ کر کبھی دوستی کے لیے مجبور نہ کرے ۔

آج کل کے ترقی یافتہ دور میں بھی جب عورت ہر عہدے پر فائز ہے ۔ پھر بھی کل کے مقابلے مین عورت پریشان تکلیف دہ حالت مین روتی ہوئ نظر آرہی ہے ۔ کب عورتون کو اپنے حقوق کی رسائ میں آسانی ہوگی ۔ کب اک عورت کوعدالتوں اور کچہریوں میں5 یا 10 سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں انصاف ملے گا ۔ کب ایک عورت کو جو کہ عدالتوں کی فیس بھرنے کی استطاعت نہیں رکھتی مفت انصاف ملے ۔ اگر بات جاءیداد مں حصہ لینے کی ہو تو وہ بھی آسانی سے نہیں دیا جاتا ۔ اگر ایک بیٹی یا بہن جاۂیداد سے حھہ لے بھی لے تو ان سے ہمیشہ کے لیے تعلق ختم کر دیا جاتا ہے ۔ خدا کرے کہ جو حقوق ہمارے مزہب اور قانون نے دیے ہیں ۔ وہ عورت کو آسانی سے میسر بھی آ سکیں ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

” جس نے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کی وہ جنت میں جاۓ گا ۔ ”

پھر لوگوں نے جنت کو خود سے دور کرنا کیوں شروع کر دیا ہے اللہ تعالی سب کو ہدایت دے ان حقوق کو سمجھنے کی اور ان پر عمل کرنے کی ۔ (امین)

nusrat hameed abdul hameed

میں ایک لکھاری ہوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!