اسلامک

مجاہدینِ غزوہ ہند (پانچواں حصہ)

دوسرا راستہ چین سے لیکر قراقرم کے پہاڑوں سے ہوتا ہوا،دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں داخل ہوتا تھا۔ہندوستان میں دریائے سندھ کی بندرگاہوں سے بازنطینی سلطنت،عرب تاجر اور دنیا کے دیگرعلاقوں کے بحری جہازسامان اٹھایا کرتے تھے۔مسلمان سلطنت،کہ جس نے اب شام کی فتح کے بعد بازنطینیوں کو بحیرہ روم میں مقید کر دیا تھا،کی ایک خواہش یہ بھی تھی کہ شاہراہ ریشم پر بھی مسلمانوں کا تسلط قائم ہو جائے۔اگرچہ مسلمانوں نے اپنی بندرگاہیں ہند کے جنوب میں سلیون،مالدیپ اور چین میں بنا لی تھیں،لیکن ابھی تک مسلمانوں کو پوری طرح شاہراہ ریشم کی تجارت پر اختیار حاصل نہیں ہوا تھا۔

ہندوستان کے بارے میں یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ اس دور میں پورے ہندوستان پر کوئی واحد حکمران حکومت نہیں کرتا تھا۔پورا ہندوستان سینکڑوں راجوں اور مہا راجوں میں تقسیم تھا۔اس وقت جنوبی ہند یا سندھ کے علاقے کہ جہاں پر آج پاکستان قائم ہے،طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا۔یہاں چھوٹے موٹے راجے مہا راجے تھے کہ جو بنیادی طور پر بحری قزاق تھے۔طوائف الملوکی اور بے راہ روی کی وجہ سرے قزاقوں نے مسلمانوں کے بحری جہازوں اور تجارتی قافلوں کیلے مشکلات کھڑی کرنا شروع کر دی تھیں۔

محمد بن قاسم

محمد بن قاسم کی مہم بیھجنے سے قبل بھی حجاج بن یوسف نے سندھ کی طرف دو مہمات بیھجی تھیں کہ جن کا بڑا مقصد یہ تھا کہ ایرانی سلطنت کے بچے کچے عناصر کہ جو سندھ کے ہندوحکمرانوں سے رابطے کر رہے تھے،کو روکا جا سکے۔ساتھ ہی ان کے خارجیوں کا بھی خاتمہ کیا جا سکےکہ جو ہند کے راجوں سے مدد کیلے یہاں پہنچ رھے تھے،اور ساتھ ہی ساتھ بحری قزاقوں کے خطرے سے بھی نمٹا جا سکے۔ان مہمات کیلے تمام مسلمان سلطنت سے مدد لی گئی تھی۔اس سلسلے میں عمان اور مکران کی مسلمانوں نے بھی مدد کی۔ مگر دونوں مہمات ہی کامیاب نہ ہو سکیں۔

Muhammad Hassnain ؔحسنین

میرا نام محمد حسنین ھے۔میں نے اردو لکھنے کا کورس کیا ھے۔میں اس پلیٹ فارم پر بھی ا چھی طرح کام کروں گا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!