ادب

خود کو کسی سے کم مت سمجھو۔۔۔!!

خود کو کسی سے کم مت سمجھو۔۔۔!!

ایک چھوٹا سا گاؤں تھا وہاں پر ایک آدمی پتھر توڑنے کا کام کرتا تھا۔اس کو اپنی زندگی سے کوئی گلا شکوا نہیں تھا۔پورادن کام کرتا محنت کرتا اور شام کو اسے مزدوری ملتی اور وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارتا۔اور سکون سے سو جاتا۔

ایک دن وہ اپنا کام ختم کرکے گھر جا رہا تھا کہ اسے راستہ میں ایک خیال آیا کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے میں سارا دن پتھر توڑتا ہوں اور آخر میں مجھے تھوڑے سے پیسے ملتے ہے۔جس میں مشکل سے میرا اور میرے بیوی بچوں کا گزارا ہو پاتا ہے۔ کاش کچھ ایسا ہو جاۓ مجھے ایسی طاقت مل جاۓ کہ میں جو بھی چاہتا ہوں وہ مجھے مل جاۓ۔

وہ گھر پونچا گھانا کھایا لیکن اس کے دماغ میں یہی خیال چل رہا تھا۔اور یہی سوچتے سوچتے سو گیا۔نیند میں اسے خواب آیا، خواب میں اس نے دیکھا کہ” وہ اپنا کام ختم کر کے واپس اپنے گھر آرہا تھا۔راستے میں اس نے ایک بہت ہی بڑا گھر دیکھا اور اس کے دل میں آیا کہ کاش یہ گھر میرا ہوتا۔اس کے یہ سوچتے ہی وہ اس گھر کا مالک بن گیا۔اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جو اس نے سوچا وہ بن چکا ہے لیکن اس کی یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہ پائی۔ کیوں کے اسے اچانک ایک شور سنائی دیا اس نے اپنے گھر کے باہر دیکھا ایک بہت بڑی ریلی نکل رہی ہے.ان کے درمیان میں ایک سیاستدان ہاتھ ہلا رہا ہے۔

پھر اس کے اندر سے یہ خیال اٹھا کہ کاش میں یہ سیاستدان ہوتا۔میرے پاس بھی اتنی ہی طاقت ہوتی جتنی اس جے پاس ہے۔ بس اس کے سوچنے کی دیر تھی وہ سیاستدان بن گیا۔وہ بہت خوس تھا کیوں کہ اس کے آس پاس بہت سے لوگ تھے۔لیکن اس کی یہ خوشی بھی زیادہ دیر نہ رہی۔ دھوپ بہت ہی تیز تھی اور اس سیاستدان کو عادت نہیں تھی اتنی گرمی میں رہنے کی اس دھوپ کی وجہ سے اس کو چکر آگۓ اور وہ گڑگیا۔

پھر اسے احساس ہوا کہ یہ جو سیاستدان ہے یہ سب سے طاقتور نہیں ہے یہ جو سورج ہے یہ سب سے طاقتور ہے۔اور اس کے دل میں آیا کہ کاش میں سورج بن جاؤں۔ اس کے سوچنے کی دیر تھی وہ سورج بن گیا اور بہت خوش ہوا۔ کیوں کے پوری دنیا کو وہی روشن کر رہا تھا اور دنیا میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اس کی روشنی کو روک سکے۔ اسکی یہ خوشی بھی زیادہ دیر نہ رک پائی کیوں کہ کچھ ہی دیر بعد آسمان ہر کالے بادل آۓ اور سورج کی روشنی کو روک دیا۔

پھر اس کے دل میں خیال اٹھا کہ کاش میں بادل بن جاؤں۔ بادل بن گیا اور آسمان میں اڑنے لگا ۔
کچھ ہی دیر بعد ہوا کا جھوکا آیا اور ان بادلوں کو لے گیا۔پھر اسے لگا کہ بادل سے تو ہوا زیادہ طاقتور ہے کاش کہ میں ہوا بن جاؤں۔اور وہ ہوا بن گیا ہوا بننے کہ بعد اسے اندر سے الگ ہی مزہ آیا کہ اب مجھے ہؤئی نہیں روک سکتا۔اسے یقین ہونے والا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور میں ہو لیکن اس کے آگے آیا پہاڑ۔

اس ہوا نے اپنی پوری طاقت لگا دی اور اس پہاڑ کو زرا سا بھی نہیں پہلا پایا ۔تب اسے احساس ہوا کہ دنیا میں کوئی ہے جو ہوا سے بھی زیادہ طاقتور ہے جس میں دم ہے اس ہوا کو روکنے کا۔ اور اس نے کہا کہ کاش میں پہاڑ بن جاؤں اور وہ بن گیا۔ لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی اس کی خوشی زیادہ نہیں رہ پائی۔اس کو جانی پہچانی سی ایک آواز سنائ دی۔اور ساتھ ساتھ اسے درد ہونے لگا جیسے کہ کوئی ہے جو اسے توڑ رہا ہے ۔درد سے وہ چیخنے لگا اور کہا کہ کاش میں وہ بن جاؤں۔جو اس پہاڑ کو توڑنے کا دم رکھتا ہے ۔

لیکن اس بار اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئ۔وہ رونے لگا ،چیخنے چیلانے لگا لیکن وہ نہیں بن پایا۔ درد اس کی برداشت سے باہر ہو گیا اور اس درد سے آنکھ کھلی اور سامنے شیشے میں دیکھا اور اس کو سمجھ آیا کہ میں خواب میں وہ کیوں نہیں بن پایا کیونکہ میں اصل زندگی میں وہی ہوں۔۔۔۔

Khawaja Sohaib

یوٹیوبر+ کمپیوٹرسائنس طالبعلم 5 سمیسٹر + ایکٹر

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button