تعلیم

ہماری حرکت ہی میں برکت ہوتی ہے

ہمارے بہت سے نوجوان ایسے بھی ہیں جو تعلیمی لحاظ سے کافی تعلیم یافتہ تو ہوتے ہیں مگر محنت سے زیادہ قسمت پر یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔مثلاًایک گریجوایشن ڈگری والا طالب علم اپنی زندگی کے قیمتی تین چا رسال قسمت کے رحم و کرم پر ضائع کرنے کو ترجیح دیتا ہے کہ کبھی قسمت میں ہوا تو کام مل ہی جائے گا۔ اس انتظار میں وہ اپنا وقت بھی ضائع کرتے ہیں اور آگے پڑھائی کی طرف توجہ بھی نہیں دے پاتے۔ قسمت کے بارے میں ہمارے جو بھی نظریات ہیں ہم ان کو پس پردہ ڈال کر ایک بار پھر سے کوشش کر کے تو دیکھیں اور اپنی محنت پہ یقین رکھیں۔ جتنی بھی ہو سکے جیسے بھی ہو سکے محنت ایک بار ایسی ضرور کر ڈالیں کہ کوئی دوسرا ایسی نہ کر سکے۔ ہاں کچھ مصائب ضرور ہوتے ہیں ، کچھ رکاوٹیں ہوتیں ہیں مگر وہ ہم کو کبھی روک نہیں سکتیں بشرطیکہ ہم محنتی ہوں اور صرف محنتی۔
یہ ایک حقیقت ہے اور یہ حقیقت صدیوں سے چلی آرہی ہے اور وہ یہ قسمت بنانا پڑتی ہے قسمت سے کچھ لیا نہیں جا سکتا اور قسمت بنانے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، حرکت کرنا پڑ تی ہے۔
مایوسیاں
جہاں تک بات مایوس ہونے یا مایوسیوں کی ہے اس کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے، اکثر اہم کام کیے جانے کا صحیح وقت گزرجانے کے بعد جب خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں تو ناکام اور مایوس ہونے کا نام دیتے ہیں۔ جبکہ مایوسیوں اور ہمارے خوش نہ رہنے کی وجہ صرف یہ ہے۔جب ہم اپنی خواہشات کو حد سے زیادہ بڑھا لیتے ہیں اور ذرائع اتنے نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب کبھی ہم بہت زیادہ اور مقررہ وقت سے پہلے چاہتے ہیں تو ہم صرف مایوس ہی ہوتے ہیں۔ ہم اپنی خواہشات کو جتنا کم رکھیں گے اتنے ہی خوش رہیں گے اور خواہشات ہمیشہ محنت کرنے اور صبر وتحمل سے کام لینے سے ہی پوری ہوتی ہیں نہ کہ قسمت سے۔
ہمیشہ قناعت اختیار کرو
قناعت کا مطلب ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنااور اسی میں اپنی خوشی تلاش کرنا۔ قناعت پسندی ایک بہت ہی اچھا اور پسندیدہ عمل ہے جو ہمیں لالچ اور بے ایمانی جیسی بیماریوں سے دور رکھتاہے۔ جب ہم جو کچھ ہمار ے پاس ہوتا ہے اس پر قناعت نہیں کرتے تو ہم کو چاہے جتنا کچھ بھی مل جائے نہ صبر آتا ہے اور نہ ہی تسلی ملتی ہے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ جو کچھ ملا ہے اس سے بھی اچھا ہو ، بہت زیادہ ہو اور مشقت کے بغیر ہی حاصل ہو۔ پھر جب کچھ حاصل نہیں ہوپاتا تو ہم کہنے لگتے ہیں کہ ہمار ی قسمت بس یہاں تک ہی محدود تھی۔
نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے ہم کو قناعت پسندی اختیار کرنا ہی ہو گی۔ ہم کو اس پر اپنے رب کا شکر بجا لانا ہی ہو گا جو کچھ ہمارے پاس ہے کیوں کہ اگر یہ بھی نہ ہوتا تو ہم کیا کر لیتے۔ ہم کو وہ سب ذرائع استعمال میں لانا ہی ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو عطا کیے ہیں چاہے وہ قلیل مقدار میں ہی کیوں نہیں ہیں۔
یاد رکھیں:
خوشیاں اور کامیابیاں ہم کو کوئی بھی اور کبھی بھی پلیٹ پہ رکھ کرپیش نہیں کرتا۔ہم کو ان کو پانے کے لیے سستی چھوڑنا ہوگی۔ ہم کو متحرک ہونا پڑے گا۔ ہم کو قسمت کے رونے دھونے سے نکلنا ہو گا۔
ذرہ سوچیں۔۔۔
اگر ہمارے پاس جو کچھ آج ہے یہ بھی نہ ہوتا تو ہم کیا کر لیتے؟ یقیناً کچھ بھی نہیں اس لیے شکر کریں کہ اللہ نے ہمار ے اندر ایسی صلاحیت پیدا کر دی ہے کہ جس کو استعمال میں لا کر ہم جیت سکتے ہیں۔محنت کرکے وہ سب کچھ پا سکتے ہیں جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں بشرطیکہ ہماری محنت ہماری خواہش سے زیادہ ہو۔اللہ نے جو انعامات ہم پر کیے ہیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھاﺅ۔ اللہ تعالیٰ کی عظیم ذات کسی سے بھی ناانصافی نہیں کرتی۔ ناانصافی اگر کرتا ہے تو صرف انسان خود اپنے آپ سے کرتا ہے کہ بعض اوقات وہ اپنی سستی کی وجہ سے اپنی جیت کو ہار میں بدل دیتا ہے۔
آج ہم کو سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے لیے کیا منتخب کرتے ہیں ساری عمر بیٹھ کر وقت گزاری کے لیے قسمت پر شکوے کرتے ہیں یااپنی محنت اور سچے جذبے سے اپنی قسمت کو قابل ستائش بناتے ہیں۔

ندیم چوہدری

Teacher & Inspirational Story Writer

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!