افسانے

اندھیرنگری

پاکستان کے کسی گاؤں میں ایک شخص کے گھر کے اوپر سے بجلی چوری کا تار گزر رہا تھا۔یعنی بجلی کوئی اور چوری کر رہا تھا جبکہ تار کسی دوسرے شخص کے گھر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔
ایک دن واپڈا کے اہلکار اس علاقے میں آئے تو انہوں نے اس شخص کو جرمانا کیا جس کے گھر کے اوپر سے تار گزر رہا تھا۔اور جو بجلی چوری کر رہا تھا وہ بچ گیا۔
بے گناہ ملزم عدالت کے چکر لگاتا رہا لیکن وہاں بھی اسے کوئی راستہ بنتا ہوا نظر نہیں آیا اور آخر اس نے جرمانا بھر دیا۔
ایک دن وہ اپنے دوست سے اس متعلق بات کر رہا تھا اور بتایا کہ میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔تو دوست نے جواب دیا کہ یہاں اندھیرنگری ہے۔جرم کوئی اور کرتا ہے جبکہ سزا کسی دوسرے کو ملتی ہے۔مزید بتایا کہ میں آپ کو کچھ دن بعد ایک ایسے ہی ملک میں اپنے ساتھ لے کر جاؤنگا جہاں ہمارے ملک کی طرح اندھیرنگری ہے۔وہ متفق ہوا اور اپنے دوست کے ساتھ جانے کا وعدہ کیا۔
چند روز بعد وہ دونوں اس ملک پہنچ گئے۔انہوں نے دیکھا کہ ایک بڑا اجتماع ہے۔جب وہ دونوں لوگوں کے درمیان پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک شخص کو بادشاہ سزائے موت دینے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔بادشاہ نے ملزم کو پھانسی کے پھندے پر چڑھانے کا حکم دیا لیکن جب بادشاہ کے نوکروں نے اسے پھندے پر چڑھانے کی کوشش کی تو اس کا سر عام انسانوں سے کافی بڑا تھا اور رسی اسکے گلے میں ڈالنا ناممکن ہوگیا۔چنانچہ ایسے موقع پر پر بادشاہ پہلے بھی غلط فیصلے کر چکا تھا اور اب کی صورتحال میں بھی وہ کرنے جا رہا تھا۔بادشاہ نے سوچا کہ مجمع میں کسی ایسے شخص کو بلانا چاہئیے جس کا سر سب سے چھوٹا ہو۔چنانچہ اس نے اپنے نوکروں کو ایسا کرنے حکم دیا۔
اتفاق سے اس پاکستانی کا سر سب سے چھوٹا تھا جس کو پہلے ہی اپنے ملک میں کسی دوسرے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔نوکروں نے انہیں بادشاہ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔اس سے بادشاہ کے چال چلنے کا فیصلہ کیا۔اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ یہاں تو ویسے ہی اندھیرنگری ہے اس لئے بادشاہ اور ان کے نوکروں کو اُلو بنا لیتا ہوں۔اس پاکستانی شخص کی سنت کے مطابق داڑھی تھی اور حلیے سے عالم لگ رہا تھا۔جب بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے فوراً بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ سلامت میں خصوصی طور پر پاکستان سے آیا ہوں۔میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بھی شخص آج کے اس پھندے پر چڑھے گا تو اللّٰہ تعالٰی اس کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے گا۔جب بادشاہ نے یہ سنا تو وہ بغیر دیر کئے پھانسی کے پھندے پر چڑھ گیا۔جب اس کی سانس نکل گئی تو چونکہ مرے ہوئے شخص کا منہ کھلا رہتا ہے تو لوگوں نے اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ دیکھوں بادشاہ سلامت جنت پہنچ چکے ہیں تب ہی تو وہ ہنس رہے ہیں۔
اس کے بعد بگھدڑ مچ گئی اور لوگ یکے بعد دیگرے پھانسی پر چڑھتے گئے۔دونوں پاکستانی انہیں دیکھ کر حیران تھے۔ان دونوں نے فوراً وہاں سے چلے جانے کا فیصلہ کیا اور اگلی صبح اپنے ملک پہنچ گئے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!