تعلیم

بچوں کی پرورش کرنے کے اہم نکات

بچوں کی پرورش کرنے کے اہم نکات

ہر انسان کی زندگی بگڑتی اور سنورتی اس کے بچپن میں ہی ہے۔أج کل یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب بچہ کم سے کم پانچ سال کا ہو تب اس پہ سختی کرنی چاہئے کیونکہ اس سے قبل تو اسے پتہ نہیں ہوتا کہ ہم اسے کیا سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس دور کے لحاظ سے یہ بات ۹۰٪غلط ہے کیونکہ بچے کو صرف 6 ماہ تک بچہ سمجھنا چاہئے اس کے بعد وہ وہی سیکھیں گے جو ان کے سامنے کیا جاۓ گا۔ اس لیۓ بچوں کی تربیت 6 ماہ سے ہی شروع کرنے چند خاص باتیں مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔
بچے جب کچھ باتیں سمجھنے لگتے ہیں تو اکثر لوگ انہیں منہ بنانا سکھاتے ہیں ۔ بچے کچھ دنوں بعد منہ بنانا سیکھ جاتے ہیں اور ان کی یہ عادت ساری زنگی نہیں جاتی اور وہ لوگوں کو منہ بناتے ہیں ۔ وہی بنا ہوا منہ جو بچپن میں دیکھ کر مزہ أتا ہے اسی عادت کی وجہ أپ کی تربیت پہ انگلی اٹھائی جا سکتی ہے اس لیے بہتر ہے کہ بچوں کو ایسی عادات سے دور رکھیں۔

٢۔ بچے جب تھوڑا بہت چلنا شروع کر دیتے ہیں تو ہم لوگ انہیں یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ جاؤ ابو کو مارو یا خالہ کو مارو یا امی کو مارو تو بچہ اپنے معصوم انداز میں جب انھیں مارتا ہے تو سب ہنستے ہیں اور یہی اس کی عادت پاکی ہو جاتی ہے اور اس طرح کے بھوت سے بچوں کو میں نی خود دیکھا ہے کہ جنہیں یہ عادت لگ جاتی ہے وہ بہت مشکل سے اور لوگوں سے ڈانٹ اور مار کھا کر سدھرتے ہیں۔

3۔بچوں کو پیار بیشک زیادہ کریں پر جب بچہ کسی سے بد تمیزی کرے یا کوئی غلط۔کام کرے تو اسے فورأ سختی سے سمجھائیں کیوںکہ پہلی بار میں اگر اسے نہیں سمجھائیں گے تو اگلی بار وہ أپ کی بھی نہیں سنے گا ۔ اور اگر وہ کسی بڑے سے بد تمیزی کرے تو چاہے بچہ ٹھیک بھی ہو تو اسی کے سامنے أپ بڑوں کو برا نہ کہیں کیوں کہ ہو سکتا ہے کل کو وہ اسی بات کو اپنا ہتھیار سمجھ لے کہ وہ جو بھی کہتا ہے ماں باپ فورأ مان جاتے ہیں چاہے اس نے جھوٹ ہی بولا ہو.

4. پرانے وقتوں کے لوگ اسی لئے بھولے اور معصوم لگتے تھے کیوں کہ ان میں لوگوں کی عزت ور بزرگوں کا ادب ہوتا تھا اور اگر کوئی بزرگ کس بچے کوئی بات سختی سے سمجھاتا تھا تو اس کہ والدین خوش ہوتے تھے کہ ہمارے بچوں کی تربیت اچھی ہو رہی ہے پر اب اگر کوئی بڑا بات سمجھا دے تو ہم اس سے لڑھ پڑھتے ہیں کہ اس نے ہمارے بچوں سے بات کیوں کی اور اسی سے بچوں کو حوصلہ آے گا اور پھر وہ خود ہی بڑوں سے بدتمیزی کریں گے اور اگر آپ انہیں نہیں روکیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے تو کل کو وہ اپ سے بھی بدتمیزی کرتے ہوئے نہیں ڈریں گے ۔

5.گھر میں سے کوئی ایک ایسا لازمی ہونا چاہیے جس سی بچہ ڈرتا ہو تا کے اگر بچہ کچھ غلط کرنے بھی لگے تو اس بندے کی وجہ سے وہ غلط کام نہ کرے ۔

6.بہت سے لوگ میری باتوں سے متفق نہیں ہوں گے پر اپ اپنے آس پاس دیکھں اور خود یہ چیزیں نوٹ کریں ۔ اگر اپ بچوں کی تربیت شروع سے ہی اچھی کریں گے تو آپکو سختی کرنے کی ضرورت نہیں پڑھے گی ۔

Aqib Abbas

Mera naam aqib hai or mn Sargodha ka rehny wala hon

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!