ادب

زندگی

زندگی
زندگی اس نشیب و فراز کا نام ہے جہاں نا تو خوشیوں کا مستقل قیام ہےاور نا ہی غموں کا۔بہت  سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ وقت کا وہاں رک جانا اور کبھی نا چلنا اچھا لگتا ہے۔پھر لبوں پہ وقت ساکت ہونے کی دعائیں ٹھہر جاتی ہیں۔خوشیوں کے اوقات کی وہ ہنسی تیتلیوں کی مانند منڈلاتی پھرتی ہے۔زندگی میں جب بہار آتی ہے تو پھر خزاں  کے گرے پتے بھی درختوں پر معلوم ہو تے ہیں۔سوکھی ٹہنیاں بھی ہری معلوم ہوتی ہیں۔خشک ندیاں بہتی معلوم ہوتی ہیں۔کیوں کہ زندگی جب اپنے اندر خوشیوں میں مگن ہوجاتی ہے تو اسے ہر سو خوشیاں ہی خوشیاں نظر آتی ہیں.
اس وقت انسان خوشیوں کے لمحات میں یوں کھو جاتا ہے کہ اسے وہم تک نہیں ہوتا کہ یہ لمحات عارضی ہیں۔اور بس کچھ وقت کے مہمان ہیں۔اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وقت جلدی گزر جانے کے بین کیے جاتے ہیں۔کیوں کہ وقت جب وہاں آ رکتا ہے جہاں مسائل تکلیف دہ ہوتے ہیں وہاں سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے ۔وقت کے آنے اور جانے کی تکرار میں زندگی کے ختم ہو جانے کا کچھ علم نہیں ہوتا۔یوں کوئی زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔اور بہت سی نئی سانسیں جنم لیتی ۔
دونوں اوقات یعنی خوشیوں اورتنگ وقت میں کیسے گزر بسر کی جائے۔زندگی نے ختم اپنے مقررہ وقت پہ ہی ہونا ہے۔اگر ہم تنگ وقت میں اپنے آپ کو تمام ہمت اور استقامت کی اینٹوں سے یکجا کر کے صبر کے پانی سے وضو کر  کے انتظار کا لبادہ اوڑھ کے جدوجہد کرنے کی ٹھان لیں ۔اور یہ جدوجہد صرف صحیح طریقے سے آگے بڑھنے کی ہو نا کہ غصے یا جلد بازی میں اٹھایا گیا غلط قدم ہو۔جو کہ آنے والے اچھے وقت کے آگے بند باندھ دے
زندگی کےافسردہ لمحات سے ہنس کے بھی نکلا جاسکتا ہے اگر ساتھ امید ہماری دوست ہو۔
یہ امید ہی ہے جو تنگی میں جینے  کی واحد ساتھی ہے۔یہ امید صرف خدا سے ہو تو بڑاکام کرے گی۔اگر لوگوں سے ہوگی تو فنا کرے گی۔اچھا اس وقت میں ایک یہ بڑا فائدہ ہوتا ہےکہ بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں بھلا کن بیماریوں کی بات ہورہی ہے ان لوگوں کی بات ہورہی جو آپکے ساتھ مخلص نہیں ہوتے اور برا وقت آتے ہی آپ کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔یہ ہوتا ہے فائدہ اس وقت کا۔
اور پھر جوں ہی وقت اچھا ھوگا ہوا بدلے گی موسم ساز گار ہو گا تو یہ بیماریاں پھول بننے کی کوشش کرے گی۔اور پھر ہم اتنے سمجھ دار ہو جاتے ہیں کہ وقت کے ساتھ آنے جانے والی بیماریوں کے ساتھ لڑنا جان لیتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ جب ہمارا اچھا وقت آتا ہے 
تو ہم سے جڑے سچے موتی ہمیں پہچان لیتے ہیں کہ آیا ہم بھی کھرے سکے ہیں یا کھوٹے ہیں۔
اسی رفتار کا نام زندگی ہے۔
     
ازقلم زینیا راجہ

zainia raja

میں اس وقت تک ہار نہیں مانتی جب تک کچھ ٹھیک نا ہو جائے.میرے مشغلے کے بارے میں یہ کافی نہیں کہ مطالعہ کی عادت میرے جسم و روح میں پیوست ہے. شاعری سے شغف بھی ہے اور شاعرانہ مزاج بھی۔

Related Articles

14 Comments

  1. خوشیاں اور غم زندگی کا حصہ ہیں، اگر زندگی میں غم نہ ہوں تو خوشیوں کی قدر ختم ہو جاتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button