افسانے

خوف

صبح کے وقت ایک اجنبی شخص شہر میں داخل ہوا ،وہ مین روڈ پر چلتے ہوئے ایک تنگ بازار میں جا مڑا
اس کی آنکھیں تیزی سے ادھر اُدھر کا جائزہ لیں رہی تھیں،
صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے بازار میں اکّا دکّا دکانیں کھلی تھیں
چلتے چلتے اُس کی نظر حجام کی دکان پر پڑی تو اس کا ہاتھ بے ساختہ اپنی بڑی ہوئی شیو کی طرف بڑھ گیا
اس نے اپنی شیو کو کھجایا اور سوچا کیوں نہ شیو بنوا لی جائے ۔۔۔۔اُس کے اٹھتے قدم حجام کی دکان کی طرف بڑھ گئے
حجام اُس شخص کو اپنی دکان کی طرف آتا دیکھ کر اپنی چیزوں کو سیٹ کرنے لگا
وہ اجنبی دکان میں داخل ہوا ،اُس نے ادھر اُدھر دیکھا لیکن اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا گاہک دکان میں نہیں تھا
حجام نے کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا بیٹھیے جناب
اس نے کرسی پر بیٹھ کر اپنا بریف کیس قدموں میں رکھ دیا ،حجام نے اپنی پوزیشن سنبھالی اور کہا آپ بال کٹوائیں گے
یا پھر شیو بنوائیں گے،اُس شخص نے سامنے لگے شیشے میں اپنے چہرے کا جائزہ لیا اور کہا شیو۔
حجام نے گلے پر تولیہ لپیٹ کر اُس کا سر کرسی کی ٹیک پر سیٹ کیا اور اُنگلیاں پانی میں تر کر کے اس کی شیو نرم کرنے لگا
چار پانچ مرتبہ انگلیوں سے شیو نرم کرنے کے بعد حجام نے شیونگ کریم اُس کی گال پر لگائی اور برش چلاتے ہوئے کہا
لگتا ہے آپ اس شہر میں اجنبی ہیں ۔۔۔۔اُس شخص نے کہا ہاں میں کسی کام کے سلسلہ میں یہاں آیا ہوں
حجام نے بڑے معنی خیز لہجے میں کہا شائید اسی لیے آپ میری دکان پر آ گئے ہیں ۔۔
یہ سنتے ہی اجنبی تھوڑا سا پریشان ہو گیا اور کہا ۔۔آپ کی اس بات کا کیا مطلب کہ میں اجنبی ہوں اس لیے اس دکان پر آ گیا؟
حجام نے شیونگ برش سائڈ پر رکھا اور استرے میں بلیڈ سیٹ کرتے ہوئے کہا ،مجھے ایک بیماری ہے
اُس بیماری کی وجہ سے اس شہر کا کوئی بھی شخص میری دکان پر نہیں آتا ،جو بھی آتا ہے وہ اجنبی ہی ہو سکتا ہے
اُس اجنبی نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا کیسی بیماری؟
حجام نے اُسترا اُسکی گال پر رکھتے ہوئے کہا ،میں جب بھی شیو بنانا شروع کرتا ہوں تو میرے دل میں ایک عجیب سی خواہش
جاگ اٹھتی ہے اور میں بے قابو ہو جاتا ہوں
اجنبی نے اپنے اپنے خشک ہوتے ہوئے گلے کو تھوک سے تر کرنے کے بعد بمشکل کہا ۔۔۔ کیسی خواہش؟
حجام نے کہا یہ خواہش کہ میں استرے سے شه رگ کاٹ ڈالوں ۔۔۔۔یہ کہہ کر حجام نے اُس کی شیو پر اُسترا چلانا شروع کر دیا
اجنبی کے جسم میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی ۔۔۔۔۔اُس کا دل دھک دھک کرنے لگا ۔۔۔وہ چاہتا تھا کہہ وہ یہاں سے اٹھ کے
بھاگ نکلے ۔۔۔اُس کو حجام کی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دے رہی تھی جو کہ رہا تھا کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں اپنی اس خواہش
پر قابو نہ رکھ سکا اور ۔۔۔۔۔۔ اور میں نے کئی لوگوں کی شہ رگ کاٹنے کی کوشش کی لیکن لوگ معمولی زخمی ہوئے
آہستہ آہستہ میرے بارے میں یہ بات مشہور ہو گئی اور لوگ میری دکان پر آنا بند ہو گئے اب کوئی اجنبی ہی آئے تو آئے
یہ کہہ کر حجام نے اُس کی شیو مکمل کی اور منہ صاف کرنے کے بعد کھڑا مسکرانے لگا
اجنبی نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی گالوں اور گردن پر ہاتھ پھیرا سب کچھ ٹھیک تھا ،شیو اتنی زبردست بنائی تھی کہ وہ حیران تھا
اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا حجام نے کہا ۔۔۔جناب گھبرائیں مت ایسا کُچھ بھی نہیں اصل میں جب میں آپکی شیو نرم کر رہا تھا
تو میں نے دیکھا کہ آپکی شیو بُہت سخت اور بال اندر کو مڑے ہوئے تھے ،جب میں نے آپ کے ساتھ یہ باتیں شروع کیں تو خوف سے
آپ کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے اور مجھے شیو کرنے میں آسانی ہو گئی۔۔۔۔۔
اجنبی اپنی پہلی دفعہ اتنی اچھی بنی شیو پر ہاتھ پھیرتے سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔خدا کا خوف ہمارے رونگھٹے کھڑے کیوں نہیں کرتا!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button