اسلامک

تابوت سکینہ

تابوت سکینہ کیا ہے؟
یہ شمشاد کی لکڑی کا ایک صندوق تھا جو کہ حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوا۔یہ صندوق آخری زندگی تک آپ کے پاس رہا پھر بطور میراث آپ کی اولاد کو ملتا رہا یہاں تک کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملا۔آپ کے بعد آپ کی اولاد بنی اسرائیل کے قبضے میں رہا اور پھر موسی علیہ السلام کومل گیا تو آپ اس میں اپنا خاص سامان رکھنے لگے۔
برکات تابوت سکینہ۔
یہ بڑا ہی مقدس اور بابرکت صندوق تھا۔بنی اسرائیل جب کفار سے جہاد کرتے تو ان کے لشکروں کی کثرت اور شان وشوکت دیکھ کر سہم جایا کرتے تھے۔ان کے دل دھڑکنے لگتے۔وہ اس صندوق کو اپنے سامنے رکھ لیتے تھے تو اس صندوق کی برکت سے ان کے دلوں میں اطمینان اور سکون پیدا ہوجاتااور ان کے لرزتے دل پتھر کی چٹانوں سے ذیادہ مضبوط ہو جاتے تھے۔جس قدر صندوق آگے بڑھتا جاتا تو انہیں فتح مبین حاصل ہو جایاکرتی تھی۔
بنی اسرائیل میں جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا تو لوگ اسی صندوق سے فیصلہ کرواتے تھے۔صندوق سے فیصلہ کی آواز سنی جاتی تھی۔بنی اسرائیل اس صندوق کوآگے رکھ رکھ کر اور وسیلہ بناکردعائیں مانگتے تو ان کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اوران کی آفتیں اور مصیبتیں ٹل جایا کرتیں تھیں۔الغرض یہ صندوق بنی اسرائیل کے لیے برکت و رحمت کا خزینہاور نصرت خداوندی کے نزول کا نہایت مقدس اور بہترین ذریعہ تھا۔مگر جب بنی اسرائیل طرح طرح کے گناہوں میں ملوث ہو گئےاور ان میں سرکشی و عصیان کا دور دورہ ہو گیا تو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر خدا کا یہ غضب نازل ہوا کہ قوم عمالقہ کے کفار نے ایک لشکر کے ساتھ ان پر حملہ کردیا۔
ان کفار نے بنی اسرائیل کا قتل عام کرکے ان کی بستیوں کو اجاڑدیا۔ عمارتوں کو توڑپھوڑ کر سارے شہر کو تہس نہس کردیا اور اس صندوق کو بھی اتھا کر لےگئے۔انہوں نے اس صندوق کو کوڑے میں پھینک دیا۔لیکن اس بےادبی کا قوم عمالقہ پر یہ وبال پڑا کہ یہ لوگ طرح طرح کی بیماریوں اور مصیبتوں میں جھنجھوڑ دیے گئے۔اس قوم کے پانچ شہر بلکل ویران ہو گئے۔یہاں تک کہ انہیں یہ یقین ہو گیا کہ صاندوق کی بےادبی کا عذاب ان پر پڑگیا ہےاوران کی آنکھیں کھل گیئں۔چنانچہ انہوں نے اس مقدس صندوق کو ایک بیل گاڑی پر لاد کر بیلوں کو بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف ہانک دیا۔پھر اللہ نے چار فرشتوں کو مقرر فرمایا جو کہ اس صندوق کو حضرت شموئیل علیہ السلام کی خدمت میں لے گئے۔اس طرح پھر سے بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی دولت دونارہ انہیں واپس مل گئی۔
یہ صندوق ٹھیک اس وقت حضرت شموئیل علیہ السلام کے پاس پہنچا جب انہوں طالوت کو بادشاہ بنایا تھا۔جبکہ بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہی تسلیم کرنے کوتیارنہ تھے کیونکہ ان کی یہ شرط تھی کہ جب تک صندوق واپس نہیں آ جاتا تب تک وہ طالوت کو بادشاہ تسلیم نہیں کریں گے چنانچہ صندوق واپس آگیا اور بنی اسرائیل بھی طالوت کو بادشاہ تسلیم کرنے پر رضامند ہو گئے۔
تابوت سکینہ میں کیا تھا؟
اس مقدس صندوق میں حضرت موسی علیہ السلام کا مبارک عصاء اور ان کی نعلین،حضرت ہارون کا عمامہ،حضرت سلیمان کی انگوٹھی،تورات کی تختیوں کے چند ٹکڑے کچھ من سلوی تھا۔اس کے علاوہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی صورتوں کے حلیے وغیرہ سب سامان ٹھے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!