BUSINESS

کاروبار ہو تو ایسا

کسی بھی کاروبارکو شروع کرنے سے پہلے اصول تجارت کولازمی طور پر دیکھ لینا چاہیےکہ آیا کہ یہ کاروبار جمنے والا ہے یا نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ” ایک نوکری پیشہ آدمی صرف اپنے خاندان کوہی پا ل سکتا ہے مگر کاروبار ایک ایسا پیشہ ہے جس میں آپ کی نسلیں بھی عیش کر سکتی ہیں”۔

تو آج کے میرے اس آرٹیکل کاعنوان ہے “کاروبار ہو تو ایسا “۔آخر میں نےیہ عنوان ہی کیوں چنا، “کاروبار ہو تو ایسا “سےمیراکیامقصدہے۔جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کاروبار شروع کیاچاہتا ہے ۔خواہ وہ کوئی گلی ،محلے کی چھوٹی سی دکان ہو یا کوئی بہت بڑی کمپنی ۔ آغاز میں اس کاروبارکوسخت محنت اور بے پناہ توجہ درکار ہوتی ہے۔ تب جا کر چھوٹی سی دکان سے آپ مزید ترقی کر سکتے ہیں اور انفرادی طور پر شروع کی جانے والی کمپنی کوملٹی نیشنل کمپنی بنا سکتے ہیں۔

اس سے ایک بات تو واضح ہے کے اصول تجارت میں پہلی بات یہ ہے کہ سخت دل جان سے اور مسلسل کام کرنا پڑتا ہے ۔تب جا کر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔
اگر دنیا کے بڑے بڑے بزنس مینز کی ہسٹری پرنظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی دن میں کروڑوں اوراربوں کے مالک نہیں بن گئے۔ بلکہ، ان کی اس کامیابی کے پیچھے ان کی محنت اور کاروبار میں ان کا خلوص ہوتا ہے۔

ہر بزنس مین کے کاروباری پارٹنرز ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے کاروبار یا کمپنی کو آسمان کی سر بلندی پر دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے بزنس میں مختلف شیئر ہولڈرز کومدو کرتا ہے ۔تاکہ اس کے کاروبار میں مزید ترقی ہو۔
اگر آپ بھی واقعی کوئی کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو ایک بات میں آپ کو بتاتا چلوں کے محض کاروبار شروع کرنا ہی بڑی بات نہیں۔ بلکہ، اس کو چلانا سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے ۔

اس کے لیے میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ اپنےبزنس کی پہلی آمدنی سے ہی اس بات کا تہیہ کر لیں کہ میں دنیا کے ساتھ شیئر ہولڈنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کو اپنے کاروبار میں اپنا حصہ دار بناؤں گا۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تبارک و تعالی سے کس طرح حصہ داری یا پارٹنرشپ قائم کی جا سکتی ہے۔

اس کے لیے ،یہ بات واضح کرتا چلوں کہ جیسا کہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ اگر تم میری راہ پر ایک روپیہ خرچ کرو گے۔ تو میں اس کا سات گنا تمہیں لوٹاؤں گا۔ تاہم آپ کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے اللہ کے ساتھ کاروبار کرنا ہمارے لئے سود مند ہے۔ اور اللہ کی راہ پرخرچ کرنے سےاللہ کئی گنا زیادہ بڑھ کر واپس عطا کرتا ہے۔ لہذا اپنا یہ اصول بنا لیں کہ اپنی آمدنی میں سے پانچ یا دس فیصد حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں اورتب جا کر آپ اس بات کا اظہار کر سکتے ہیں کہ “کاروبار ہو توایسا”۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!