TECH

3200 میگا پکسل کا ڈیجٹل کیمرا

امریکی ادارے (سیلک) میں ماہرین نے ایک بہت بڑا ڈیجیٹل کیمرا تیار کر لیا ہے جو 3200 میگا پکسل کی تصاویر کھینچ سکتا ہے۔ البتہ اسے عام استعمال نہیں کیا جائے گا۔ “گیلکسی سروے آف اسپیس اینڈ ٹائم”نامی منصوبے کے تحت ایک فلکیاتی رصدگاہ میں نصب کیا جائے گا۔ اس رصدگاہ کا نام”ویرا روبن آبزرویٹری”رکھا گیا ہے اور اس کی تعمیر آج کل چلی میں جاری ہے۔ بات صرف بڑی تصاویر کی نہیں بلکہ یہ کیمرا اتنی مدھم چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو انسانی آنکھ کی قوت بصارت کے مقابلے میں دس کروڑ گنا مدھوم ہیں۔ یعنی اس کیمرے کی مدد سے ایسی تفصیلی تصویریں کھینچیں جا سکیں گی جو اس سے پہلے کسی فلکیاتی دوربین کے ذریعے ممکن نہیں تھیں۔ اس کیمرے میں عکس بندی (امیجنگ) کرنے والہ حصہ 61 سینٹی میٹر لمبا اور 61 سینٹی میٹر چوڑا ہے۔ مجموعی طور پر یہ 189 انفرادی امیجنگ سینسرز کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ جن میں سے ھر ایک 16 میگا پکسل کی تصویر لے سکتا ہے۔ اس کیمرے پر گزشتہ پانچ سال سے کام ھو رھا تھا جو کچھ ھی دن پہلے مکمل ھوا ھے۔ فی الحال اس سے کچھ تجرباتی تصویریں کھینچیں گئی ہیں تاکہ اس کی کارکردگی جانچی جا سکے۔ عام ڈیجیٹل کیمروں کے برعکس’ اسے انتہائی سرد ماحول درکار ہوتا ہے اور یہ منفی 150 ڈگری فارن ہائیٹ پر کام کرتا ہے۔ تاھم یہ اتنا طاقتور ہے کہ بہت دور اور انتہائی مدھم چیزوں کو بھی بہت صاف طور پر دیکھ سکتا ہے۔ یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسے انسانی آنکھ ہزاروں میل دوری سے ایک موم بتی کو جلتا ہوا دیکھ لے۔ مزید آسانی کیلئے یوں سمجھ لیجئے کہ یہ کیمرا 24 کلومیٹر دور موجود ایک گالف بال تک کو باآسانی دیکھ سکتا ہے فی الحال اس کی مزید سخت آزمائشیں جاری ہیں۔ جو 2021 کے وسط تک مکمل ھونے کی تواقع ہے۔ اس کے بعد یہ کیمرا اپنی متعلقہ رصد گاہ میں پہنچا دیا جائے گا اور کائنات کے اسرار کھگلالنے میں ہماری مدد کرنے لگے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!