اسلامک

سیدناعمرفاروقؓ کی شان

سیدناعمرفاروقؓ کی شان
حضرت عمرفاروقؓ کااسلام قبول کرناآقاحضرت محمدﷺکی دعاکانتیجہ تھا۔اللہ کےپیارےنبی حضرت محمدﷺنےاسلام کے غلبے
کےلیےاللہ تعالٰی سےدعامیں اپنےپیارےعمرکومانگا۔پھرآقامحمدﷺکی دعارنگ لائی اورحضرت عمرفاروقؓ نےاسلام قبول کیا۔ یہ
مکہ کےسردارتھے۔ان کااصل نام عمرتھا۔اسلام قبول کرنےکےبعدنبی کریمﷺنےانہیں فاروق کاخطاب دیا۔ان کےاسلام قبول کرنےسےپہلےنبی کریمﷺاورتمام صحابہؓ چھُپ چھُپ کرعبادتِ اللہ کرتے تھے۔جب انہوں نےاسلام قبول کیاتو
نبی کریمﷺاورتمام صحابہؓ نےبیت اللہ میں نماز اداکی۔ان کے اسلام قبول کرنےسےدینِ اسلام کوایک نیئ قوت عطاہوئی۔جب
مکہ والوں نےمسلمانوں پرظلم کی انتہاکردی تواللہ تعالیٰ نےہجرت کاحکم دیا۔حکمِ الٰہی کےبعد حضرت عمر فاروقؓ نےآقاﷺسے
پہلے20صحابہؓ کےساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔حضرت عمرفاروقؓ نےاپنوں سےبڑھ کراسلام سےمحبت کی کبھی بھی رشتےداروں یاکسی بھی کرابت دارکواسلام سے بڑھ کرنہیں چاہاحتیٰ کےجنگِ بدرمیں اپنےماموں یعنی ماں کےبھائی کی گردن اسلام
کی خاطراُتارکراُنہوں نےاسلام سےمحبت کاثبوت دیا۔ان کےماموں کانام عاص بن ہشام تھا۔جوکہ اسلام کےدشمنوں میں سےایک تھا۔
جب جنگِ بدرمیں مشرکین کے70سپاہی مسلمانوں نےقیدکرلیےتوحضرت عمرفاروقؓ نےنبی کریمﷺکومشورہ دیاکےاےاللہ کےپیارےنبیﷺمیرےرشتےداروں کو میرےحوالےکردیں ،علی کےرشتےداروں کوعلی ؓ کےحوالےکردیں،ابوبکرصدیقؓ
کےرشتےداروں کوابوبکرؓ کےحوالےکردیں تاکہ ہم خود ان کی اکڑی ہوئی گردنوں کواُتاریں۔اس سے بھی ثابت ہوتاہے کہ وہ اسلام سے کتنی محبت کرتے تھے۔حضرت عمرفاروق ؓ ایک انصاف پسنداورصادق آدمی تھے۔
مشرکین ان کواپنابڑادشمن مانتےتھے جب غزوہ اُحدمیں مسلمانوں کے70مجاہدشہیدہوےتومشرکین بہت خوش تھے۔تواُن کے سلاراعظم حضرت ابوسفیان نےبلندآوازسےسوال کیاکہ اےمسلمانوں کیا تم میں حضرت محمدﷺاورحضرت ابوبکرؓ ہیں۔تو حضرت عمرفاروقؓ نے آقا جنابِ محمدﷺکے کہنےپرانہیں جواب دیا”اےاللہ کےدشمن جن شخصیات کےبارےمیں تم جاننا چاہتے ہووہ ابھی زندہ ہیں”۔سیدناعمرفاروق ؓ ایک بہادر جنگجو تھے۔یہ آقاﷺ کےچار دوستوں میں شامل تھے۔حضرت عمرؓ آقاﷺکہ ساتھ تمام غزوات میں شامل تھے۔ان کے بارے میں آقاﷺنے فرمایا”اگرمیرےبعدکسی بھی نبی نے آناہوتا
تووہ عمرؓہوتا”چنانچہ آقاﷺکےبعدکسی بھی نبی نے نہیں آنااس لیےعمرؓ ایک صحابیؓ ہیں۔
حضرت عمرفاروقؓ کی پیاری بیٹی حضرت حفصہؓ نبی کریمﷺکی بیوی تھیں۔
ایک دن حضرت عمرفاروقؓ نے نبیﷺ سے فرمایااے اللہ کےپیارےنبیﷺمسلمانوں کی عورتوں کوپردہ کرناچاہیےتواللہ
نےآسمان سے قرآن اُتاردیاکہ مسلمانوں کی عورتیں پردہ کریں گی۔نبی کریمﷺنےان کےبارےمیں فرمایامیراعمرؓ جہاں سے
گزرتاہےشیطان وہ رستہ چھوڑدیتاہے۔
حضرت محمدﷺکےانتقال کےبعدخلافت کادارومدارحضرت ابوبکرصدیق ؓ نےسنبھالااُن کےانتقال کےبعدیہ ذمہ داری
حضرت عمرفاروقؓ کےمضبوط کندھوں پر آگئی اُنہوں نے اس ذمہ داری کوباخوبی نبھایا۔وہ ہمیشہ انصاف والےفیصلےکرتےتھے۔
وہ راتوں کوجاگ کرخوداپنےملک کاپہرہ دیاکرتےتھے۔بھیس بدل کرلوگوں کےحالات معلوم کیاکرتےتھے۔کہ کہیں کسی کوئی
پریشانی تو نہیں۔وہ اس بات سےڈرتےتھےکہ کہیں اُن کی خلافت میں اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی تووہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جواب دہ ہوں گے۔حضرت عمرفاروقؓ نےایک عظیم مسلم سلطنت قائم کی۔اُن کی ہی سلطنت میں فلسطین کو یہودیوں سےفتح کیاگیا۔اُن کی شہادت مسجدِ نبوی میں رسول اللہﷺکے ممبرکےپاس ہوئی۔ایک کافر ابو لولوماجوسی نےاُن پرخنجر سےوارکیےتھے۔اُن کی قبر مبارک نبیﷺکی قبرمبارک کےپاس ہے۔تاریخ نےآج تک اُن جیسابہادراورانصاف پسندحکمران نہ دیکھا۔آج پھر فلسطین کوعمرفاروقؓ جیسےحکمران کاانتظارہے۔

Related Articles

One Comment

  1. چاہاحتیٰ کےجنگِ بدرمیں اپنےماموں یعنی ماں کےبھائی کی گردن اسلام
    کی خاطراُتارکراُنہوں نےاسلام سےمحبت کاثبوت دیا۔ان کےماموں کانام عاص بن ہشام تھا۔جوکہ اسلام کےدشمنوں میں سےایک تھا۔
    اس کا حوالہ مل سکتا ہے؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!