افسانے

غلطیاں کرتا ہے یہ دل

دل کی ایک چھوٹی سی غلطی بھی ساری زندگی کے لیے پچھتاوا اور روگ بن جاتی ہے ۔ اور اس نے آج تک سنی کس کی ہے ۔ جہاں دل ضد کر بیٹھتا ہے ۔ تو وہاں شاید دماغ بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ کیونکہ دل و دماغ کی آپس میں بنتی نہیں ہے ۔ انسان کو عقل و سمجھ تب آتی ہے ۔ جب اس کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔

میں ایک پرائیوٹ کلینک پر کام کر رہی تھی ۔ ایک دن ایک عورت زخموں پر لگانے والی ٹیوب لینے آئ ۔ میرے پوچھنے پر اس عورت نے بتایا کہ “میری بیٹی کے زخم ہے ۔ اس لیے ضرورت ہے ۔” کچھ دن بعد وہ عورت دوبارہ آئ ۔ اس نے مجھ سے کہا “میری بیٹی کو پیشاب والی نالی لگانی ہے ” میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ ” وہ چل پھر نہیں سکتی آپ کی مہربانی ہو گی آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں ۔”جب میں اس کے ساتھ اس کے گھر پہنچی تو ایک جوان لڑکی بستر پر لیٹی ہوئ تھی ۔ لیکن جب اس کی ماں نے زخم دکھایا تو مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ اس لڑکی کی ساری کمر گل چکی تھی ۔ ریڑھ کی ہڈی بھی صاف دکھائ دے رہی تھی ۔ اس کی ماں نے بتایا “میں ٹیوب اس زخم کے لیے لے کر آئ تھی ۔ میں گھروں میں کام کرتی ہوں ۔ میرا میاں اور بیٹا نشہ کرتے ہیں ۔ اس لیے میں گھروں میں کام کر کے گزارا کرتی ہوں ۔اس لیے اتنی آمدن نہیں کہ اس کا علاج کروا سکوں ۔” جب میں نے دیکھا کہ اس کا زخم کافی بڑھ چکا ہے ۔اور ان کے مالی حالات بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ میں نے اس کی والدہ سے کہا”انٹی میں صبح و شام اس کے مفت مرہم کرنے آؤ گی ۔”اس لڑکی کا نام سائرہ تھا ۔

جب میں پہلے دن مرہم لگانے گئ تو میں نے سائرہ سے دریافت کیا کہ اس زخم کی کیا وجہ ہے ۔ اس نے بتایا کہ”میں بھی امی کے ساتھ گھروں میں کام کرتی تھی ۔ میں خوبصورت اور صحت مند تھی ۔ ہماری ہی گلی کا ایک لڑکا جس کا نام عابد تھا ۔ میں جب بھی گھر سے باہر نکلتی میرا پیچھا کرتا اور بار بار پیار کا اظہار کرتا ۔ کافی عرصہ تک وہ میرے پیچھے رہا آخر جوانی تھی ۔اور پھر جب دل کسی پر آجاۓ تو کسی کی نہیں سنتا ۔ میں اس کے پیار کے چکر میں آگئ ۔اس سے بے پناہ محبت کرنے لگی ۔ایک دن میں اپنی چھت پر بیٹھی تھی کہ عابد کو ایک اور لڑکی کے ساتھ دیکھا ۔ جو ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے کھڑے تھے ۔ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اچانک میرا بلڈ پریشر بڑھ گیا ۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ سیڑھی کس طرف ہے ۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نشتر میں تھی ۔ ایک سال تک انھوں نے بیڈ پر رکھا جس کی وجہ سے میری کمر گلنا شروع ہوگئ ۔ ایک ٹانگ بھی ناکارہ ہو گئ ۔” میرے صبح و شام مرہم لگانے کی وجہ سے کمر کا زخم بھر آیا ۔ اور بلکل ٹھیک ہو گیا ۔ کچھ عرصہ بعد میرا اس لڑکی سے رابطہ ہوا ۔ تو اس لڑکی نے بتایا کہ وہی زخم پاؤں پر بن گیا ہے اور سارا پاؤں خراب ہو گیا ہے ۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اس کی ٹانگ کاٹنی پڑے گی ۔ ورنہ زخم بڑھ جاۓ گا ۔ آپریشن کر کے اس لڑکی کی ٹانگ کاٹ دی ۔

جب میں نے دوبارہ اس لڑکی کو دیکھا تو وہ ویل چیئر پر تھی ۔ اب اس کی والدہ کو بھی شوگر کی بیماری نے گھیر لیا ہے ۔ آج وہ لڑکی ویل چیئر پر بیٹھ کر صرف روتی ہے ۔ اور کہتی ہے کہ کبھی بھی کوئ دل کی نہ سنے اور کسی پر اعتبار نہ کرے ۔ آج اس لڑکی کو دیکھتی ہوں تو پریشان ہوجاتی ہوں ۔ اگر خدانخواستہ اس کی ماں کو کچھ ہو گیا تو اس کا کیا ہو گا ۔ اے کاش کہ کبھی کوئ دل کی نہ سنے کیونکہ غلطی دل کرتا ہے اور پوری زندگی روگ بن جاتی ہے ۔

nusrat hameed abdul hameed

میں ایک لکھاری ہوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!