ادب

ناول:عرقِ حیات- آغاز قسط نمبر 1

ناول:عرقِ حیات

تحریر:سید فصیح حسن
پلٹ فارم: نیوزفلیکس
پبلشر: سیدثاقب رضا
Novel Arq e Hayat Arq-e-hayyat dr Faris

ناول:عرقِ حیات قسط نمبر 1

وه صبح سے اب تک اسپتال میں کام کر رها تها .اسکی ان تهک محنت اور کام کیلئے جذبہ اسکی آنکهوں سے عیاں تها جو کہ مکمل نیند نہ لینے کی وجہ سے سُرخی مائل نظر آ رہیں تهیں .ہاں! اُس کا پیشہ تها ہی ایسا جس کیلئے کبهی کبهی دن رات کی قربانی دینی پڑتی تهی.
اِس وقت بهی اپنے رُوم میں ریوالونگ چیئر پر بیٹهے ،اپنی کہنیوں کو میز پر ٹکائے وه مسلسل اپنے ہاتهوں کی انگلیاں اپنے سر میں پهیر رہا تها. جب دروازے پر دستک ہوتی ہے، وه جهنجهلا کر دروازے کی طرف دیکهتا ہے.
وه اسپتال کا ٹیکنیشن تها جو داخل هوا تها اُس کے ہاتھ چند فائلز تهیں اور وه ہڑبڑایا سا لگ رہا تها. ٹیبل کے قریب آ کر وه اًسے مخاطب کرتا ہے “ڈاکٹر فارس صاحب ایمرجنسی میں ایک پیشنٹ ہے جسے آپ کو ہینڈل کرنا هو گا. “یہ پیشنٹ کے ٹیسٹ رپورٹس ہیں،بہتر هو گا آپریشن سے پہلے ضرور دیکھ لیں” ،وه چند فائلز اُس کی جانب بڑهاتا ہے. فارس کچھ لمحے ان فائلز کو تکتا ہے پهر ہاتھ بڑها کر لے لیتا ہے اور پڑهنا شروع کرتا ہے.
رپورٹس سے اُسے اندازه هوتا ہے کہ پیشنٹ کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور کافی خون بہہ چکا ہے. اس کے ساتھ وه باقی ڈیٹیلز پر بهی ایک نظر ڈالتا ہے کہ اچانک اسکی نظر ایک جگہ ٹهٹهک کر رکتی ہے جہاں پیشنٹ کا نام لکها هوتا ہے. ” فریحہ مختار خان” . فارس کا دل زور سے دهڑکنا شروع کر دیتا ہے اور پهر کچھ سنبهل کر جیسے وه تصدیق کرنے کیلئے پوچهتا ہے ” کہاں کی ہے یہ ؟ کچھ علم ہوا؟”
جواب و هی آتا ہے جو وه سننا نہیں چاه رہاتھا ” جی ڈاکٹر صاحب، کراچی کی ہے،بیچاری اپنی دوست سے ملنے آئی تهی پر مقدر کا کس کو پتا ہے. اسکی دوست اتفاق سے همارے ہمسائے ہیں، تو انہوں نے فوراً مجھ سے رابطہ کیا !”.
فارس کهڑا هوا اور اس پر عجب کیفیت طاری ہوگئی. گمِ گُشتہ ماضی کی مختلف آوازیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں…
“سر ؟؟” جب اچانک ٹیکنیشن کی آواز پر چونک کر وه اُس کی جانب دیکهتا ہے
“اچها! تم پیشنٹ کو فوراً آپریشن تهیٹر میں شفٹ کرو میں آ رہا ہوں”. ٹیکنیشن مثبت انداز میں سر کو جنبش دیتا هوا باہر نکل جاتا ہے… فارس کو اپنی آواز اجنبی سی محسوس ہوتی ہے جیسے وه نہیں،کوئی پروفیشنل ڈاکٹر بول رہا هو.
وه خود کو سنبهالنے کی کوشش کرتا ہے….
آپریشنز تو اُس نے بہت کیے تهے مگر آج جو گهبراہٹ اسے هو رہی تهی وه اس سے پہلے کبهی نہیں هوئی تهے. اِسی کشمکش اور گهبراہٹ میں وه خود پر قابو پاتے هوئے کمرے سے نکلتا ہے اس کا رُخ آپریشن تهیٹر کی جانب هوتا ہے کہ عقب سے ایک جانی پہچانی پر سالوں پرانی نسوانی آواز اُس کے بڑهتے قدم روک دیتی ہے۔ “Brother” وہ نسوانی آواز اس کے کانوں سے ٹکراتی ہے وه اپنا رخ اس آواز کی جانب موڑتا ہے ، سامنے پیشنٹ کی دوست کهڑی ہوتی ہے … و هی دوست جس کا نام فارس کے ذہن میں آیا تها جب وه ٹیکنیشن سے بات کر رہا تها.
“واه ! مولا تیری قدرت کب کس کو کس کے در پر لے آئے” اُس نے دل ہی دل میں کہتے هوئے آه بهری .
اس لڑکی کا چہره آنسوؤں سے تر تها … روہانسی انداز میں اُسے مخاطب کرتے هوئے بولی ” برادر! پلیز اسے بچا لو “.
“I will try my best,sister Rida.” ڈاکٹر فارس تسلی دینے والے انداز میں اس لڑکی سے مخاطب هوتا ہے۔۔۔!
قریب کهڑی نرسوں کی توجہ اب اس لڑکی کے الفاظ پر تهی ،جب ان میں سے ایک کہتی ہے “ڈاکٹر فارس کی تو کوئی بہن نہیں تهیں پهر یہ ….؟” فارس کی سماعت سے جونہی یہ الفاظ ٹکراتے ہیں وه گهور کر ان نرسوں کی جانب دیکهتا ہے ..نتیجتاً وه خاموشی سے اپنے کام میں مصروف هو جاتی ہیں.

پهروہ دهڑکتے دل پر قابو پاتے هوئے آپریشن تهیٹر کی جانب اپنے قدم بڑهاتا ہے۔To be Continued

Disclaimer:

یہ افسانہ نگاری کا کام ہے۔ نام ، کردار ، کاروبار ، مقامات ، واقعات ، مقامات اور واقعات یا تو مصنف کے تخیل کی پیداوار ہیں یا فرضی انداز میں استعمال ہوتے ہیں۔ حقیقی افراد ، زندہ یا مردہ ، یا حقیقی واقعات سے کوئی مماثلت خالصتا. اتفاقی ہے

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button