افسانے

پتھر کا بھوت (آخری پارٹ )

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلام علیکم

مجھے یقین ہے کہ میں تم ایک اچھے بھوت ہو تم نے میرے بابا کی مشکل میں مدد کی
گل شیر نے کہا
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جب تم سب جان گئے ہوں تو میں سچ بولوں گا تمہارے بابا نیک انسان ہے ایک بزرگ یہاں آئے تھے ان کی ہدایت تھی کہ رمضان کی مدد کروں تو میری بیٹی کی فریاد خدا سن لے گا اور وہ ظالم کی قید سے آزاد ہو جائے گی
شکر ہے پتھر کے بھوت میں تمہاری بیٹی کو آزاد کرانے جا رہا ہوں اس کے بعد تمہیں گاؤں والوں کے سامنے میرے بابا کی گواہی دینی ہوگی
کہ وہ چور یا ڈاکو نہیں ہے بلکہ تم نے ان کی مدد کی تھی
گل شیر نے کہا
تو بھوت بولا
مجھے منظور ہے
گل شیر کوہ قاف روانہ ہو گیا
مختلف پہاڑی آراستہ عبور کرتا ہے ایک ندی کے کنارے پہنچا دو جن کے بچے ندی میں نہا رہے تھے گلشیر نے انھیں پیار سے اپنے پاس بلایا
بچوں نے سوال کیا
تم یہاں مسافر ہوں
ہاں
تو پھر آؤ ہمارے گھر
تم کون ہو
ہم سب سردار کے بیٹے ہیں
نہ بابا نہ
تمہارے بابا بہت ظالم ہیں مجھے جیل میں ڈال دیں گے
ہاہاہا تم بھی فریحہ ہے کی طرح ڈرتے ہو
فریحہ کون۔۔۔۔۔۔؟
یہ بھی نہیں جانتے کہ پھر یہاں سرگرم بوت کی بیٹی ہے
اچھا
کہاں ہے وہ
پاپا کی جیل میں
بیچاری۔۔۔۔ گلشیر نے افسوس کیا

تم ہماری مدد کرو تو ہم فریحہ کو بھوت نکل کے پاس بھیج دیں
وہ بھی تو پتھر کے اندر قید ہے
وہ میرے بابا کے کمرے میں ایک پتھر کی چڑیا ہے اسے توڑ دو تو بھوت انکل آزاد ہو جائیں گے
ہماری ماما کو فریحہ اور بھوت انکل کی بہت فکر رہتی ہے
اچھا ٹھیک ہے میں تمھاری مدد کروں گا
گھر لے جا کر انھوں نے گل شیر کو چھپا دیا اور اپنی ماما کو سب بتا دیا
ماں ماں بہت خوش ہوئی اس نے گلشیر کے ساتھ تمام پروگرام سیٹ کیا اور جب جن سردار اپنی عدالت میں مصروف تھا تو پہلے پتھر کی گڑیا کو توڑ دیا گیا پھر خصوصی جیل سے فریحہ کو نکال کر گل شیر کے ساتھ جناتی گھوڑے پر گاؤں بھیج دیا
چلتے چلتے ماما نے انہیں ایک انگوٹھی دی اور کہا
اسےہاتھ سے اتارنا مت ورنہ پھر سردار کی قید میں آ جاؤں گی

گل شیر مسلسل دو دن کے سفر کے بعد پتھر بھوت کے پاس پہنچا تو وہ ویرانے میں اس کا منتظر تھا اور کھلی فضا میں لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا
بھوت انکل میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا میرے بابا بہت بیمار ہے تم بھی اپنا وعدہ پورا کرو
ہاں لو مجھے اپنے بابا کے پاس لے چلو
وہ شہر آگئے ۔۔۔۔۔
رمضانی کی حالت بہت خراب تھی بھوت کوہ قافی شربت تیار کیا
رمضانی کو وہ شربت پلایا گیا کچھ ہی دیر بعد رمضان اٹھ بیٹھا
گل شیر نے اسے ساری کہانی سنائی پھر وہ حسب وعدہ بھوت کو لے کر گاؤں پہنچے
گاؤں والوں کے سامنے بھوتنے رمضانی کی صفائی پیش کی اور گاؤں میں رہنے کی خواہش ظاہر کی گاؤں والوں کو رمضان نے کی صفائی میں کی گئی ہر بات کا یقین آ گیا
اور ساتھ ہی انھوں نے بھوت کو بھی گاؤں میں رہنے کی اجازت دی
کچھ ہی دنوں بعد فریحہ اور گل شیرکی شادی ہوگی
اور وہ سب ہنسی خوشی رہنے لگے اب گاؤں کی بھلائی کا ہر کام بھوت اور رمضانی کے مشورے سے ہوتا
کیونکہ بھوت اور رمضانی کی کوشش سے وہ گاؤں ایک مثالی گاؤں بن چکا تھا

ختم شدہ

جزاک اللہ

Shafique Ahmad

ہم آپ کو بہترین انفارمیشن provide کریں گے تھنکس

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button