اسلامک

قابیل و ہابیل کا واقعہ

قابیل و ہابیل دونوں ہی حضرت آدم علیہ السلام کے فرزند تھے۔ان کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت حواء سے ایک لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتے تھے اور پہلے حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کیا جاتا تھا۔اس دستور کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کا نکاح لیوذا سے(جو کہ ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی) کرنا تھا۔مگر قابیل اس پر راضی نہ ہوا کیونکہ وہ اقلیما کو پسند کرتا تھا۔حضرت آدم علیہ السلام نے اسے سمجھایا کہ اقلیما اس کے ساتھ پیدا ہوئی ہے اس لیے وہ اسکی بہن ہے۔مگر قابیل نہ مانا اور اپنی ضد پر اڑا رہا۔ آخرکار حضرت آدم علیہ السلام نے یہ حکم دیا کہ تم دونوں اپنی اپنی قربانیاں اللہ کی باگاہ میں پیش کروجس کی قربانی قبول ہوگی وہی اقلیما کا حقدار ہوگا۔
اس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی یہ نشانی تھی کہ آسمان سے ایک آگ اتر کر ایک قربانی کو کھالیا کرتی تھی۔چنانچہ ہانیل نے ایک بکری جبکہ قابیل نے گیہوں کے کچھ بال قربانی کے لیے پیش کردیے۔آسمانی آگ نے ہابیل کی قربانی کو کھا لیااور قابیل کے گیہوں کو چھوڑ دیا۔اس بات پر قابیل کت دل مین بغض و حسد پیدا ہوگیا اوراس نے ہابیل کو قتل کرنے کی ٹھان لی۔اس نے ہابیل کو بھی کہہ دیا کہ وہ ہابیل کو قتل کردےگا۔ہابیل نے کہا کے قربانی قبول کرنا اللہ کا کام ہےوہ متقی بندوں کی ھی قربانی قبول کرتا ھے۔اگر تو متقی ہوتا توتیری بھی قربانی ضرورقبول ہوتی۔ساتھ ہی ہابیل نے یہ کہہ دیا کہ اگر تو معرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھ پر اپنا ہاتھ نیہں اٹھائوں گا۔کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ھوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے ہی پلے پڑیںاور تو دوزخی ہو جایے۔
کائنات کا سب سے پہلا قتل۔۔
آخرکار قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا اور یہ روئے زمیں کا سب سے پہلا قتل تھا اور قابیل دنیا کا سب سے پہلا قاتل تھا۔بوقت قتل ہابیل کی عمر بیس برس تھی اور قتل کا یہ حادثہ مکہ مکرمہ میں جبل ثور کے پاس ہوا۔جب ہبیل قتل ہو گئے تو سات دن تک زمین میں زلزلہ رہا۔ہر طرف بےچینی پھیل گئی۔قابیل جو کہ بہت ہی خوبصورت تھا اس کا چہرہ کالا اور بدصورت ہوگیا۔اور حضرت آدم علیہ السلام کو بحد رنج ہوا یہاں تک کہ ہابیل کے غم میں ایک سوسال تک آپ کو ہنسی نہ آئی۔آپ نے غضب ناک ہوکر قابیل کو اپنے دربار سے نکال دیااور وہ اقلیما کو ساتھ لے کر یمن کی سرزمین”عدن” چلا گیا۔
قابیل اور ابلیس۔۔
ابلیس قابیل کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے اس لیےکھالیاتھا کیونکہ وہ آگ کی پوجا کیا کرتا تھا اس لیے تو بھی ایک آگ کا مندر بنا کر آگ کی عبادت شروع کر۔چنانچہ قابیل ہی پہلا شخص تھا جس نے آگ کی عبادت کی۔یہی وہ بدبخت شخص ہے جس نے دنیا میں سب سے پہلا قتل کیا اور یہی وہ شخص ہے جو کہ سب سے پہلے جہنم میں ڈالا جائےگا۔حدیث شریف میں ہے کہ روئے زمیں پرقیامت تک جو بھی خون ناحق ھوگا قابیل اس میں حصہ دار ہوگا کیونکہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا دستور نکالا۔
یقابل کا انجام۔
یقابل کا انجام یہ ہوا کہ اس کے ایک لڑکے نے جو کہ اندھا تھا اس کو ایک پتھر مارکر قتل کردیا۔یہ بدبخت نبی زادہ ہونے کے باوجود آگ کی عبادت کرتےہوئے کفروشرک کی حالت میں اپنے لڑکے کے ہاتھ سے مارا گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button