اسلامک

بعنوان منشور قرآن کے احیاء کی ضرورت

قرآن کو پوری تاریخ میں اور آج بھی بعنوان منشور اپنا وہ مقام نہیں مل سکا کہ جو ہونا چاہئے تھا لہذا بعنوان منشور قرآن کے احیاء کی ضرورت ہے نہ کہ صرف کتاب مقدس کے طور پر،کتاب محترم کے طور پر،کتاب استخارہ کے طور پر اور کتاب ثواب طور پر کیونکہ آج کا ہر عنوان موجود ہے لیکن یہ کتاب بعنوان منشور مہجور ہے۔اسکے اندر تدبر کریں،فکر کریں کہ قرآن بعنوان منشور کیوں نہیں اپنایا گیا ہے؟ہم نے اسے غیر اسلامی زندگی کے اندر ایک مقدس چیز کے طور پر رکھا ہوا ہے۔یہ تبرک کے طور پر،برکت کے طور پر،گھروں میں،مسجدوں میں،سینوں میں،لائبریریوں میں یا اداروں میں موجود ہے لیکن جس چیز کی زینت ہے وہاں غیر موجود ہے انسان چاہتا ہے کہ اس سے کوئی برکت اور خیر حاصل ہو جائے لیکن زندگی کی زینت اور زندگی کے منشور کے طور پر اسے نہیں اپنایا گیا۔اسکے بہت سارے اسباب ہیں لیکن ان میں سے ایک بڑا سبب قرآن کی صحیح شناخت ومعرفت کا نہ ہونا ہے کہ قرآن کس چیز کی کتاب ہے؟اور ظاہر ہے کہ جس مجموعے کی صحیح شناخت موجود نہ ہو اور اس شناخت کے اندر یہ متعین نہ ہو کہ قرآن ایک منشور ہے تو اس لاعلمی کی بنا پر اور قرآن کی معرفت کے فقدان کی بنا پر یہ منشور مہجور ومتروک ہے اور اس پر کسی کو خود بخود یہ آگاہی کم نصیب ہوتی ہے یا جب تک تعلیم کا حصہ نہ بنے تو لوگوں میں اس شعور کا فقدان بدستور قائم رہتا ہے،آج ہم محسوس کرتے ہیں اور لمس کرتے ہیں کہ قرآن مجید مہجور ومتروک ہے۔

Tasawar Hussain

کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button