اسلامک

جنت کی خواہش

کلمہ طیب پڑھنے کے بعد ہر مسلمان کی یہ دلی خواہش ہے کہ قیامت میں جنت اس کا مقام ہے وہ اپنی ابدی زندگی بغیر کسی تکلیف اور مشقت کے بسر کرے گا۔ جی ہاں یہ حقیقت ہے اللہ تعالی کی جانب سے ہر کلمہ گو مسلمان کیلئے یہ وعدہ ہے ۔اس بنا پر ،ہر فرد کو جنت کی خواہش ہے اور ہونی چاہیے۔

اوپر والی لائنوں میں جو بات میں نے کی ہے وہ حقیقت ہےاور انسان کو اللہ نے ایسی خواہش کرنے کا اختیار دیا ہے۔ مگر اب چند باتیں ایسی بھی ہیں جن پراگرہم غور کریں تو کوئی بھی با ضمیر آدمی اپنے آپ کو اس خواہش کے قابل نہیں سمجھے گا۔

دنیا ایک امتحان گاہ ہے ہر فرد یہاں اللہ کا بندہ (نائب )بن کر آیا ہے اور اس کے زمے کچھ فرائض لگائے گئے ہیں۔ جنکی پابندی کر کے اللہ کی نظروں میں اس کا پسندیدہ بندہ بن سکتا ہے ۔آج کا یہ آرٹیکل لکھنے کے پیچھے چند سوالات ہیں جو کافی عرصے سے میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے ۔جن کی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ آج کی زندگی میں ایک مسلمان میں صرف اور صرف “جنت کی خواہش “ہے۔ مگر اس کے اعمال، اس کا چال چلن اس قابل نہیں کہ وہ “جنت کی خواہش” کرے۔

اب یہ تو ایسی بات ہے کہ کیا کچھ نہیں اور انعام کے حقدار ٹھہرے ۔کیا اسی لئے انبیاۓ کرام اور صحابہ کرام نے بے شمار قربانیاں دیں؟
اولیاء اللہ نے دین اسلام کی سر بلندی کیلئے کریا کریا، بستی بستی چل کر پیغام الہی کو لوگوں تک پہنچایا؟

لہذا اگر ان کی قربانیوں کو دیکھا جائے تو کیا ہمارا ضمیر ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم بھی جنت کی خواہش کریں؟ جی نہیں، بلکہ ہم تو صرف نام کے مسلمان ہیں اور خواہش جنت کی کرتے ہیں ۔ہاں یہ بات درست ہے کے ہر کلمہ گو مسلمان حساب و کتاب کے بعد سزا اور جزا کا حقدار پایا جائے گا۔ مگر کیا ہم نے کلمہ پڑھا تاکہ ہم جنت حاصل کر سکیں؟ کیا ہمارے اندر صرف” جنت کی خواہش” ہے؟ جبکہ ایک سچا مسلمان وہ ہوتا ہے جو “جنت کی خواہش” نہ کرتے ہوۓاللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔

لیکن آج کے معاشرے میں جس طرح کے کردار ہیں پتہ نہیں ہم کس منہ سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔کیا ہم مسلمان کی توہین نہیں کرتے ؟کیوں ہمارا ضمیر مر چکا ہے؟

اگر ہم چاہتے ہیں کہ واقعی ہم اس قابل ہو جائیں کہ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو ۔تو اپنے ضمیروں کو زندہ کریں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنی زندگی گزاریں ۔تب جا کر اگر ہم” جنت کی خواہش “کریں تو اچھا لگتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!