افسانے

کشمکش سی

اللہ تعالی بھی انسان کو معلوم نہیں کس کس وقت پر آز ما تا ہے ۔ اپنے بندے کو آزماتا ہے کہ: یہ میرا بندہ کیا انسانوں پر یا دوسری مخلوقات پر رحم کرتا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ اللہ تعا لی نے اپنے حقوق کے سا تھ اپنے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے ان حقوق کے بارے میں تو ارشاد باری تعا لی ہے ۔ “جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا خدا اس پر رحم نہیں کرتا ۔”
لمحہ بہ لمحہ اپنے بندوں کو ازمائش میں ڈال دیتا ہے ۔ کیونکہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی تو انسان کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ضرورت پڑتی ہے ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ جھوٹی سی نیکی کو بھی حقیر سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں ۔ کچھ اللہ کے بنرے ایسے بھی ہوتے ہیں ِجو ہر وقت نیک کاموں کو سرانجام دینے کہ لیے تیار رہتے ہیں ۔ اور کامیابیاں بھی ان لوگوں کے قدم چومتی ہیں ۔ وہ ایک چھوٹی سی نیکی کی وجہ سے بلندیوں کو چھو لیتے ہیں ان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی ۔
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں اپنی بیٹی کو کالج سے لینے پیدل جاتی تھی ۔ اس روڈ پر ٹریفک کا بہت زیادہ رش تھا رش کے درمیان میں ایک بزرگ اماں کھڑی تھی ۔ میں نے دیکھا تو اماں نے مجھے ہاتھ کا اشارہ دیا میں قریب گی تو اماں جی نے کہا کہ سڑ ک پار کروا دو ۔ میں نے اماں جی کا ہاتھ پکڑا اور سڑک پار کروادی ۔ دوسرا دن ہوا تو پھر اماں جی اسی جگہ کھڑی تھی ۔ میں نے قریب جا کر کہا “اماں جی سڑ ک پار کرنی ہے ؟ ” تو اماں نے کہا “ہاں بیٹی مجھے سڑک پار کروا دو ڈرتی ہوں کہ حادثہ پیش نہ ہو جاے ۔ “میں نے سڑک پارکروادی لیکن راستے میں سوچتی ہوئی گئی کہ یہ اماں اتنی ضعیف ہیں پھر گھر سے باہر کیوں نکلتی ہیں ۔ جبکہ وہ سڑک پار نیں کر سکتی تھی ۔ اگلے دن میں تھوڑادیر سے گئئی تو میں حیران رہ گئی اماں اسی جگہ کھڑی تھی ۔ میں نے اماں سے کہا کہ “آپ یہاں پر کیوں کھڑی ہوتی ہیں ۔”اماں نے بتایا کہ “میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے اس کے بچے ہیں ان کو کھانا بنا کر دیتی ہوں کیونکہ ان کی ماں بھی نہیں ہے اور وہ ابھی اتنے بڑے بھی نہیں ہیں کہ خود بنالے ۔ اس لیے آہستہ آہستہ ان کے گھر تک چلی جا تی ہوں ۔ میرے اندر ہمت نہیں ہے پھر بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کا میرے سوا کوئی نہیں ہے ۔” میں نے کہا : ” ٹھیک ہے اماں جی آئیں میں آپ کو سڑک پار کرواتی ہوں ۔”میں نے سڑک پار کروادی
لیکن تمام راستے یہی کشمکش سی رہی کہ وہاں اتنی مخلوق ہوتی ہے ۔ پھر بھی میرے خدا نے اس کام کے لیے میرا انتخاب کیا ۔ یہ سوچ کر میں بہت خوشی محسوس کرتی ہوں کہ میں تو بس ایک کام کے لیے جاتی تھی ۔ لیکن میرا رب یہ نیک کام بھی مجھ جیسی نا چیز سے کرواتا ہے۔ خدا سب کو نیک کام کرنے کی توفیق آتا فرماۓ ۔ (آمین)

nusrat hameed abdul hameed

میں ایک لکھاری ہوں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!