اسلامک

فتنہ دجال

فتنہ دجال وہ فتنہ ہے جس سے ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی پناہ مانگی دنیا میں پھیلتا ہوا انتشار، مسلمانوں پہ بڑتی مصیبتیں، امان کی کمی، بڑتی ہوئی بے حیائی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب فتنہ دجال عروج پر ہو گا۔ دجال کون ہے؟ اور اس کی پہچان کیسے ہو گی؟ دجال یہودیوں کی نسل سے ہو گا یہودیوں کا جانشین ہوگا دین اسلام کا بہت بڑا دشمن جس کا مقصد دنیا میں تباہی مچانا اور اپنی پیروی کروانا ہو گا اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کی پہچان کیسے ہو گی دجال کا قد چھوٹا ہو گا، خدا ہونے کا اقرار کرے گا، اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہو گا، ایک آنکھ سے کانا ہو گا، لوگوں سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ اگر میں تمہارے مرے ہوۓ عزیزوں کو زندہ کر دوں تو کیا مجھ پہ امان لے آؤ گے؟ تو لوگ کہے گے ہاں اور وہ اپنے شیطانوں کو ان کے عزیزوں کے روپ میں حاضر کر دے گا اور لوگ اس پر امان لے آۓ گے۔ فتنہ دجال اتنا بھیانک فتنہ ہو گا کہ لوگ اپنا امان پیچ کھاۓ گے اور دجال کو اپنا خدا ماننے لگ جاۓ گے اسی اثناء میں دجال خانہ کعبہ کا رخ کرے گا لیکن خدا کے موجود فرشتوں کی خانہ کعبہ میں پہرہ داری کی وجہ سے وہاں داخل نہیں ہو پاۓ گا، ایسے ہی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں داخل ہونا چاہیے گا مگر وہاں بھی داخل ہونے سے قاصر رہے گا۔ دونوں طرف سے ناکامی کے بعد دجال اپنا رخ شام کی طرف کرے گا۔
اتنے میں امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو جاۓ گا اور وقت کے امام اسے راستے میں ہی روک لیں گے۔
پھر دنیا میں صرف دو ہی گروہ ہو گے ایک حق کا اور ایک باطل کا۔امام مہدی کی فوج میں 313 سپہ سالار ہوں گے اور وقت کے امام کی مدد کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام حاضر ہوں گے جو امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔
پھر حق اور باطل کی وہ جنگ ہو گی جو بے شک امام زمانہ کے حق میں ہو گی اس کے بعد ہر کوئی گمراہی کا راستہ چھوڑ دے گا اور ہر طرح خوشحالی ہو گی امام مہدی علیہ السلام کی دنیا میں حکومت ہو گی اور ہر کوئی ان کی اطاعت کرے گا۔
خداوند عالم سے دعا ہے کہ ہمیں صراط مستقیم کے راستے پر چلنے کی توفیق دے، حق اور باطل کی پہچان کرواۓ اور ہمارے امان کو اتنا پختہ کر دے کہ امام زمانہ کی فوج کا سپہ سالار بننے کا ہمیں شرف حاصل ہو آمین یارب العالمین

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!