اسلامک

مجاہدینِ غزوہ ہند (قسط نمبر 7)

محمد بن قاسمؒ
سیدی رسولؐ اعلان نبوت کے بعد جب مشرکینِ مکہ کو اسلام کی دعوت پیش کرتے ہیں،تو آپؐ کو شدید مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اپنے اسی مشن کو جاری رکھنے کیلے ایک مرتبہ حضورؐطائف کی طرف تشریف لے جاتے ہیں۔اہلِ طائف کی جانب سے بھی رسولؐ پر شدید ظلم و ستم ڈھایا جاتا ہے۔علاقے کے اوباش لڑکوں کو حضورؐ کےپیچھے لگا دیا جاتا ھے۔اور پتھر برسائے جاتے ہیں کہ سیدی رسولؐ کا پورا وجود مبارک خون سے تر ہو جاتا ہے۔حتیٰ کہ آپؐ کے نعلین مبارک بھی آپؐ کے خون مبارک سے بھیگ جاتے ہیں۔اپنے محبوب کی اس بے بسی اور ان کے ساتھ طائف والوں کی بے ادبی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ بھی جلال میں آ جاتے ہیں۔اسی وقت حضورؐ کی خدنٓمت میں فرشتے نازِل کیے جاتے ہیں۔
فرشتے حضورؐ سے اجازت طلب کرتے ہیں کہ طائف کے پہاڑوں کو آپس میں ملا دیا جائے۔تا کہ ان کے درمیان بسنے والی قوم تباہ و برباد ہو جائے۔اب زرا ماحول کا اندازہ لگایا جائے۔ حضورؐ انتہائی دکھی اور غمزدہ ہیں،پورا وجود مبارک خون میں نہایا ہوا ہے۔اطراف میں اہل طائف کے بھیجے ہوئے غنڈے ہیں کہ جو نہ صرف آپؐ پر پتھراؤ کر رھے ہیں بلکہ توہین آمیز فقرے بھی کس رہے ہیں۔
آپؐ کے پاس اب پورا اختیار موجود ہے۔اگر آپؐ چاہیں تو یہ پوری قوم تباہ کی جا سکتی ہے۔مگر حضورؐ رحمت اور مغفرت کا معاملہ اختیار کرتے ہیں۔فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ اس قوم کو تباہ نہ کیا جائے۔اگر اللہ نے تو ان کی نسلوں سے مسلمان پیدا ہونگے جن سے اسلام کو تقویت حاصل ہو گی۔حضورؐ کی یہ دعا قبول کر لی جاتی ہے۔اہلِ طائف سے عذاب ٹال دیا جاتا ہے،اور حضورؐ اس وادی سے پلٹ کر واپس مکہ مکرمہ تشریف لاتے ہیں۔
کچھ ہی عرصے بعد اہلِ طائف اسلام قبول کر لیتے ہیں۔محمد بن قاسمؒ کا تعلق بھی اہلِ طائف سے ہی ہے۔اور یہ حضورؐ کی دعا کی تاثیر اور برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ عظیم الشان کا لیا۔(جاری ہے)

Muhammad Hassnain ؔحسنین

میرا نام محمد حسنین ھے۔میں نے اردو لکھنے کا کورس کیا ھے۔میں اس پلیٹ فارم پر بھی ا چھی طرح کام کروں گا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!