اسلامک

دنیا کس کو کہتے ہیں؟

دنیا کس کو کہتے ہیں؟
مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیا اللہ سے غفلت کا نام ہے۔
مال واولاد سونا چاندی کانام نہیں ہے ہاں اگر یہی چیزیں اللہ سے غافل کر رہی ہیں تو پھر یہ دنیا ہیں العرض اگر کوئی عالم وحاجی سخی ومجاہد ہوتے ہوئے بھی اللہ سے غافل ہے اور ان مقدس مشنوں سے مقصود بھی دنیا کمانا ہے تو پھر آخرت ان کا بدلہ نہ ہوگا۔
جناب سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (نعمته الدنیا مطئة الاخرةِ) یعنی وہ دنیا جس سے آخرت حاصل ہو رہی ہے وہ بہتر ہے یعنی انسان ہر کام بال بچے اللہ کے احکام کے مطابق پال رہا ہے تو اس کو آخرت میں اجر ملے گا اسی طرح زراعت تجارت ہر چیز اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہو تو یہ دنیا میں شمار نہیں ہوگا۔
اور وہ دنیا جو انسان کو غافل کرتا ہو تو اس کے متعلق رحمةاللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ:(الدنیا ملعونة وطالبھا کلاب) فرماتے ہیں کہ دنیا ملعون ہیں اور اس کے طلب گار کتے ہیں اور ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ دنیا مردار ہے اور اس کے طالب کتے ہیں یعنی جس طرح کتے مردار پر ٹوٹتے ہیں اور ہر کتے کی خواہش ہوتی ہیں کہ میں ہی یہ سارا مردار کھالوں اسی طرح اہل دنیا میں ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ ساری دنیا میرے پاس آجائے اور وہ کتوں کی طرح دوسروں پر غراتے ہیں نیز کتا اپنے مرداربھائی کتے کا گوشت بھی کھا جاتا ہے اسی طرح دنیا دار بھی دنیا کی خاطر اپنے بھائی کا گلہ کاٹ دیتے ہیں جس طرح کتے کو دوسرے کتے کی مرنے سے عبرت حاصل نہیں ہوتی اسی طرح ایک انسان کے مرنے سے دوسرے انسان کو بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی۔
العَياذ بالله حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا داروں کو کتے کے ساتھ تشببیہ دی ہے۔
حالانکہ کوّا بھی مردار خور ہے لیکن کوّے اور کتے میں فرق ہے جب ایک کوا کسی مردار کو کاٹ رہا ہوتا ہے تو وہ دوسرے کوے پر نہیں غراتا اور اگر کوئی کوا کسی مردہ جانور دیکھ لیتا ہے تو وہ دوسرے ہم مثل کووں کو بلاتا ہے بخلاف کتے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
کوے رات کو مردار نہیں کھاتے جبکہ کتے دن رات کھاتے ہیں ان کے پیٹ نہیں بھرتے۔
کتا اپنے مردہ بھائی کو دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں لیکن کوے اپنے مردے کوے کو دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔
اللہ ہمیں سیدھا راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما دیجئیے۔۔۔آمين۔۔۔

Irfan ullah

میرا نام عرفان اللہ ہے میں ایک طالب علم ہوں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!