ادب

نئے لکھنے والوں کے نام

لکھنا ایک آرٹ ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا۔ جن لوگوں کو مطالعہ کا ذوق ہوتا ہے وہ اچھے لکھاری بن پاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا پڑھنے والا ہی اچھا لکھ سکتا ہے۔ اسی طرح مطالعہ کتب کی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ کچھ لوگ اچھا لکھ لیتے ہیں، کچھ لوگ ذہین ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اچھا بولتے ہیں۔ لیکن لکھنا ایک ایسا آرٹ ہے کہ اگر آپ مطالعہ اور ریسرچ نہیں کریں گے آپ کچھ اچھا نہیں لکھ سکتے۔ جب اردو ادب کو ترقی ملی، تب لکھاری پیدا ہوئے۔ ان میں سے بہت نام شعرا کے ہیں جن کی شعری نصاب میں بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ نثر کے حوالے سے بہت ترقی ہوئی۔ ابھی بھی بہت سارے لکھنے والے موجود ہیں مگر پڑھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کی بڑی وجہ موبائل فون کے علاوہ مصروف زندگی بھی ہے۔ موبائل فون نے جہاں بے شمار فوائد پیش کیے ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی ہیں۔ اس لیے ایک اچھا رائٹر بننے کے لیے یہ چند چیزیں لازمی کریں:

مطالعہ کتب:
اس کی بہت بڑی اہمیت ہے کیونکہ مطالعہ کتب سے انسان خود اپنے انداز میں لکھنا سیکھ جاتا ہے۔ انسان کے علم میں اضافہ بھی مطالعہ کتب کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ دماغ کو تیز بھی کرتا ہے۔ نصابی کتب کے علاوہ غیر نصابی کتب کا مطالعہ انسان کو زندگی میں بہت کام آتا ہے۔ کتاب سے اچھا کوئی دوست نہیں اس لیے اچھی کتاب کا انتخاب کیا جائے۔ لائبریری میں بیٹھ کر پڑھنا اور جو پڑھا اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ کالم لکھنا چاہتے ہیں تو ان مشہور لوگوں کے کالم پڑھیے جن کے کالم پوری دنیا پڑھتی ہے اور ان کی وجہ شہرت بھی کالم نگاری ہی ہے۔

رول ماڈل :
لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔ آپ ان کالم نگار کے کالمز پڑھیں جن کو آپ پسند کرتے ہیں۔ میں ایک مشہور کالم نگار کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنا رول ماڈل جاوید چوھدری صاحب کو بنایا اور آج وہ خود ایک اچھے رائٹر ہیں۔ اس لیے آپ بھی اپنے رول ماڈل کا انتخاب کریں۔ آپ دوسروں کے لکھنے کے طرز عمل کو دیکھ کر لکھنا شروع کر دیں مجھے امید ہے آپ کا اپنا بھی ایک اپنا انداز بن جائے گا بس آپ مستقل مزاجی کے ساتھ لکھتے جائیں۔ دراصل جو کچھ ہم لکھتے ہیں یہ ہمارے خیالات ہوسکتے ہیں یا وہ چیزیں جو ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں یا ہمیں درپیش آتی ہیں۔ انسان کی جیسی صحبت ہوتی ہے وہ خود بھی ویسا ہی بن جاتا ہے اس لیے اپنی صحبت اچھی بنائیں۔

متفرقات :
آپ روز لکھنے کی پریکٹس کرتے جائیں مجھے یقین ہے ایک دن آپ بھی اچھے لکھاری بن جائیں گی۔ مجھے میرے والد صاحب نے کہا کہ تم اگر کالم لکھنا چاہتے ہو میرے واپس آنے تک تین چار کالم لکھ لینا۔ وہ جب واپس آئے تو میں دس کے قریب کالم لکھ چکا تھا۔ اسی طرح میں نے باقاعدہ طور پر لکھنا شروع کردیا۔ اور آج میں تین مختلف پلیٹ فارم پر کالم لکھ چکا ہوں۔ اور میرا اپنا ایک انداز بن چکا ہے۔ میں نے بھی جاوید چوھدری صاحب کو فالو کیا اور میرا طرز عمل بھی یہی ہے کہ میں جس موضوع پر لکھتا ہوں اس پر پہلے ریسرچ کرتا ہوں۔ پھر الگ ورق پر اس کی تھوڑی تفصیل لکھ کر باقاعدہ ٹائپ کرتا ہوں۔ آپ بھی اسی طرح لکھ سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے اللہ پاک آپ کو بھی کامیاب کرے گا۔ بس آپ نے لکھتے جانا ہے اور ان باتوں پر عمل کریں۔

Danish Hameed

I’m a student, researcher & a writer. I started writing articles 2 years ago. I’m 19 years old and always try to work for the betterment of country.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!