افسانے

”خط اور میسج“

جیسا کے آپ سب جانتے ہیں آج کے دور میں جیتنے بھی پیغام ہیں وہ میسج کے ذریعے بہجے جارہے ہیں ۔ پر ایک دور وہ بھی تھا جب ہم اپنے پیغامات اور پیاروں کے لیے اپنے جزبات کو ایک خط کی شکل دییا کرتے تھے ۔ وہ بھی کیا وقت تھا۔۔۔۔

ھم اپنے دل کی باتیں ایک کاغذ پر لیکھا کرتے تھے اور ایسے پڑھنے والا اس خط کا بے صبری سے انتیظار کرتا تھا۔ اس انتیظار کا مزہ بھی کچھ خاص تھا جب ایک خط کو پہچنے میں دو سے تین دن لگ جاتے تھے اور لوگ ہر وقت اٗس ڈاکیے کا انتیظار کرتے تھے جو خط لے کر آتا تھا۔۔۔۔۔

اچھا ہاں آپ کو یہ تو پتا ہے ناں کے ڈاکیا کون تھا وہ جو آپکے خط کو ایک سے دوسری جگہ پہنچاتا تھا۔ اٗس ڈاکیے کا انتیظار کرنے کا بھی اپنا ہی مزہ تھا اور جب وہ خط لے کر آتا تو اٗس ڈاکیے کی بھی بہت اچھی طرح خاطر توازہ کی جاتی تھی ۔ پر اب نہ وہ ڈاکیا ہے اور نہ ہی وہ خط پڑھنے کا اور خط کے انتیظار کا مزہ ۔

اب تو لوگ اپنے دل کی بات ١ سیکینڈ میں دوسرے تک پہنچا دیتے ہیں اور اس بات میں نہ کوی جزبات ہوتے ہیں اور نہ ہی کوی بےصبری ۔ ویسے ایک طرح سے دیکھا جاے تو یہ میسج بھی کوی بٗری چیز نہیں ہے جب اپکو اپنے کسی فیملی کو ضروری بات بتانی ہو تو یہ بھت کام آتی ہے اور امرجینسی میں بھی میسج کرنا ہی آسان ہوتا ہے اگر اپکا اپنا کسی دوسرے ملک میں ہے تو آپ اسے جلدی میسج کے ذریعے بتا سکتے ہیں کہ آپ کس پریشانی میں مبتیلا ہیں ۔

ویسے آپکو کونسا دور پسند ہے (خط والا ) یا ( میسج والا ) ، comment میں ضرور بتایگا ۔ شکریہ پسند کرنے کا میرے خیالات کو ۔ 😊خدا حافظ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!