اسلامک

لو گوں کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کا طرزِ گفتگو

امام صادق علیہ السلام کی حدیث کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی اپنی کنہ عقل کے ساتھ لوگوں سے خطاب نہیں کیا،
ماکلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم العباد بکنہ عقلہ قط۔(۳۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ بیان فرمایا وہ بس لوگوں کی عقلوں کی صلاحیت کے مطابق فرمایا ہے
یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حقیقت عقل،اپنی عقل کی گہرائی کے ساتھ کبھی بھی انسانوں سے گفتگو نہیں کی ہے چونکہ اس عقل کی گہرائی سے گفتگو ہو تو انسانوں کے پلے نہیں پڑتی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ
انامعاشر الانبیاء امرناان نکلم الناس علی قدر عقولھم۔۔۔(۴۰)
بے شک!ہم گروہ انبیاء اس بات پر معمور ہیں کہ لوگوں سے انکی عقلوں کے مطابق گفتگو کریں۔۔۔
یعنی انبیاء علیہم السلام لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق مطالب کو تنزل دیتے ہیں،لوگوں کو چاہئے کہ ہماری ذہنی سطح پر آجائیں لیکن یہ لوگوں کیلئے دشوار ہے پس ہم مطالب کو آسان کرتے ہیں اور لوگوں کیلئے قابل فہم بنا دیتے ہیں لہذا قرآن کا نزول عمومی اور نزول خصوصی ہے،پہلے یہ لوح محفوظ سے یا کتاب مکنون سے قلب نورانی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آیا اور اب قلب نورانی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قلوب مومنین تک بھی انہی دو مرحلوں میں آئے گا،ممکن ہے ایک انسان کو قرآن پوری عمر میں جاکر سمجھ آجاۓ،ممکن ہے چند سال لگ جائیں مثلاً قرآن سمجھتے ہوئے یا قرآن کو اپنی زندگی کا منشور بناتے ہوئے تئیس سال لگ جائیں کہ خوانخواہ یہ کام تدریجاً ہوگا لیکن اس کے لئے نزول رمضانی ونزول لیلتہ القدر مقدمہ بنے گا،اگر یہ نزول نہیں ہوا تو وہ تدریجی بھی نہیں ہوسکتا ہے،اس لئے ماہ رمضان ماہ فہم قرآن مجید ہے۔

Tasawar Hussain

کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button