افسانے

سراب (حصہ سوم)

سر اور آنکھیں دونوں جھکی تھیں. کچھ دیر کے لیے سکوت چھا گیا. اُس خاموشی کو چندا نے ہی توڑا.
میں آپ کی کہانیاں پڑھا کرتی تھی. طوائف کے لئے جذبۂ ہمدردی مجھے آپ تک لے آیا. ملنے سے پہلے تک آپ کی پرستار تھی مگر آج آپ کی محبت میں گرفتار ہوں. میں جانتی ہوں کہ میں آپ کے قابل نہیں ہوں لیکن جب آپ مجھ سے دور گئے تو مجھے ایسا لگا جیسے میں ادھوری ہو گئی ہوں. آج ہمّت کر کے دل کی بات کہہ تو دی مگر ڈرتی ہوں کہ آپ مجھے دھتکار نہ دیں.. چندا کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ خود سے لڑ رہی تھی.
چندا! اِدھر دیکھیں میری طرف. شرجیل نے مضبوط ہاتھوں میں اُس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا.
میں آپ کی یہ حقیقت جانتے ہوئے بھی آپ سے پیار کرتا ہوں. پگلی…! پیار کب ذات، پات، دین، دھرم اور اونچ، نیچ دیکھتا ہے یہ تو کبھی بھی کسی سے بھی ہو سکتا ہے. جیسے آپ کو مجھ سے اور مجھے آپ سے ہُوا. چندا کو شرجیل کے الفاظ نئی دنیا کی نوید سنا رہے تھے. اُسے لگنے لگا تھا جیسے اُس کی دنیا بدل گئی ہے. اُس نے بالاخانے کو چھوڑا اور کرائے کے ایک مکان میں شفٹ ہو گئی. اپنے ملنے والوں سے رابطہ ختم کر دیا. اُس نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے ماضی کا زرا سا بھی سایہ اپنے مستقبل پر نہیں پڑنے دے گی. شرجیل کی محبت اُسے نئی دنیا سے روشناس کرا رہی تھی. ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا وہ اُس کی محبت میں پور پور بھیگتی جا رہی تھی. تقریباً چھ ماہ بعد ایک دن چندا نے شرجیل سے کہا
شرجیل! اب ہمیں شادی کر لینی چاہیے؟
شادی؟؟؟ شرجیل کو جیسے جھٹکا لگا.
ہاں شادی. چندا نے شرماتے ہوئے کہا.
آپ شادی کے نام پر حیران کیوں ہو رہے ہیں؟؟؟ کیا آپ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتے؟؟؟ چندا نے سوال کیا
بات یہ نہیں ہے کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتا. میں حیران اِس بات پر ہوں کہ میں نے کبھی تم سے شادی کا وعدہ نہیں کِیا. تم نے کیسے سوچ لیا کہ میں تم سے شادی کروں گا؟ شرجیل نے چندا کو خود سے الگ کرتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی.
کیا مطلب ہے آپ کا؟؟؟ آپ مجھے اپنائیں گے نہیں؟؟
مجھے سمجھنے کی کوشش کرو. ویسے بھی محبت میں ضروری تو نہیں جس سے پیار ہو اُسی سے شادی ہو. میں تم سے پیار ضرور کرتا ہوں. مگر شادی نہیں کر سکتا. ہمارے درمیان جو خلیج ہے اُسے پاٹنا آسان نہیں. ویسے بھی میں تم سے شادی کر بھی لوں تو ہماری اولاد کا مستقبل کیا ہو گا؟؟ میری اولاد ہمیشہ ایک طوائف کی اولاد کہلائے گی اور کوئی بھی غیرت مند یہ برداشت نہیں کر سکتا. تمہارا ماضی میں ذہن سے کھرچ بھی دوں تو کیا زمانہ مجھے یہ بھولنے دے گا کہ تم ایک طوائف ہو؟؟ جو ہر رات کسی نئے مرد کی آغوش میں رہا کرتی تھی. تمہارا سیاہ ماضی میرا روشن مستقبل برباد کر دے گا. میں تم سے محبت…. بولتے بولتے اُس نے چندا کی طرف دیکھا جو سپاٹ چہرہ لئے اُسے دیکھ رہی تھی. اچانک اُٹھ کھڑی ہوئی. اپنی ہتھیلی کی پشت سے چہرہ صاف کرتی وہ باہر نکل گئی. شرجیل اُسے روکنا چاہتا تھا مگر چندا نے اُسے کوئی موقع نہ دیا. وہ فٹ پاتھ پر چلتی جا رہی تھی. اُس کا رُخ اپنے کرائے کے گھر کی طرف جانے کی بجائے بالاخانے کی طرف تھا جہاں وہ چندا بائی کے نام سے مشہور تھی

تحریر: عارش خان

Arish Khan

My name is Muhammad Arish Khan. I belong to the city of Khanewal. I am a lecturer of Urdu in Punjab Group of Colleges

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button