اسلامک

مجاہدینِ غزوہ ہند ( قسط نمبر 9)

محمد بن قاسمؒ
کسی طرح اس عورت کا پیغام بچ جانے والے مسلمانوں کے ذریعے حجاج بن یوسف کے کانوں تک پہنچ گیا۔حجاج بن یوسف اس وقت اپنے دربار میں بیٹھا تھا۔جب اس تک یہ پیغام پہنچا کہ مسلمانوں کی بیٹی نے قید خانے سے اس کو مدد کیلئے پکارا ہے،تو وہ جوش و جلال میں بے قرارہو گیا۔فوراَ ہی ایک مسلمان فوج تیار کرنے کا حکم جاری کیا گیا کہ جس کو ذمہ داری سونپی گئی کہ دِیبل پہنچ کر ان مسلمان قیدیوں کو چھڑائے اور بحری قذاقوں کو نشانِ عبرت بنا دے۔اس مہم سے قبل حجاج نے ایک خط راجہ داہر کے نام ارسال کیا تھا کہ جس میں یہ دونوں کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
راجہ داہر نے یہ خط پڑھ کر بڑے تمسخر سے جواب دیا کہ مسلمان قافلے کو بحری قذاقوں نے لوٹا ھے اور راجہ داہر کا ان پر کوئی اختیار نہیں ہے۔اس جواب کے بعد اب حجاج کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا،سوائےاس کے کہ مسلمان فوج خود جا کر اس مہم کو سر انجام دے۔اب حجاج کو ایک سپہ سالار کی تلاش تھی کہ جو اس مہم کی قیادت کر سکے۔
ہندوستان کی جانب بھیجی جانے والی پہلی دو جنگی مہمات میں نا کامی کے نعد اب حجاج بن یوسف کی نظر اپنے نوجوان سترہ سالہ بھتیجے پر پڑی کہ جو کم عمری کے باوجودسپہ گری،حربی حکمتِ عملی اور فہم و فراست میں کسی بھی بڑے سپہ سا لار سے کم نہ تھا۔محمد بن قاسمؒ اپنی کم سنی کے باوجود، پہلے ہی حجاج کی حکومت میں ایک اہم مقام بنا چکے تھے۔حجاج نے انہیں سپہ سالار مقرر کرتے ہوئےتقریباَ بارہ ہزار کی فوج کے ساتھ سندھ کی جانب روانہ کیا۔ اس فوج میں چھ ہزار کے قریب شام کے عرب مسلمان تھے،جبکہ باقی فوج دیگر علاقوں سے اکٹھی کی گئی تھی۔فوج کا ایک بڑا حصہ بحری جہازوں کے ذریعے خلیج فارس سے ہوتا ہوا سندھ کی جانب روانہ کیا گیا۔(جاری ہے)

Muhammad Hassnain ؔحسنین

میرا نام محمد حسنین ھے۔میں نے اردو لکھنے کا کورس کیا ھے۔میں اس پلیٹ فارم پر بھی ا چھی طرح کام کروں گا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!