افسانے

پر جوش نوجوان اور ریاست

ایک نوجوان لڑکا تھا جو جوش سے بھر پور اوراپنی قوم کے لئے آزادی کی نعمت کو تلاش کر رہا تھا ۔لیکن افسوس کا مقام یہ تھا کہ جس قوم میں وہ رہ رہا تھا اس قوم کو غلامی کی عادت ہوگئی تھی یا کہہ لیں کہ اگر ایک بھینس کو کسی لکڑی کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے تو وہ یہ سمجھتی ہے کہ اب وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتی حالانکہ اگر وہ چاہے تو کوئی اس کو باندھ کر نہیں رکھ سکتا ۔ اس قوم کی حالت بھی یہ تھی کہ اب وہ اس غلامی کی رسی کو توڑنا بھول چکی تھی ۔ اس نوجوان نے کوشش شروع کردی کہ اس قوم کو یہ رسی کاٹنے کا طریقہ یاد کروائے ۔ اس نے ایک تحریک کا آغاز کیا اور دن رات محنت شروع کردی۔

ایک دن ایک آدمی نے اس کی تحریروں کو پڑھا تو اس نے فوراً اپنے کچھ سپاہیوں کو اس کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور اپنے پاس لانے کا کہا۔ ان فوجیوں نے اپنے کمانڈر کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کو گرفتار کیا اور اس کو کمانڈر کے سامنے پیش کیا ۔ کمانڈر نے اس لڑکے سے اس کا نام دریافت کیا اور اس کی رہائش کا پوچھا مگر اس لڑکے نے صرف ایک ہی جواب دیا کہ اگر تمہارا میرے بارے میں جاننا اتنا ضروری ہے تو پہلے اس بارے میں بتاؤ کہ تم کون ہو اور مجھے گرفتار کرنے کا حق کس نے تمہیں دیا ہے۔ کمانڈر نے اس کو کچھ نہیں بتایا اور سپاہیوں کو اس کو واپس چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔ سپاہی اس نوجوان کو واپس چھوڑ آئے۔

اب ایک مہینے کا وقت گزر گیا ۔ اچانک اس کمانڈر اور نوجوان کی آپس میں ایک اور ملاقات ہو گئی ۔ اب کی بار اس لڑکے نے اس کمانڈر کا راستہ روک کر پھر سے وہی سوال دہرایا کہ او کمانڈر کون ہو تم اور کیا مقصد ہے تم لوگوں کا جو تم نے ہمارے وطن پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اب کمانڈر نے اس کو یہ بتانے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ وہ پہلے ہی اس نوجوان کے جوش اور ولولے سے بہت متاثر ہوا تھا۔ وہ اسے ایک سنسان جگہ لے گیا اوربات شروع کی اور اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا ۔ اس سب کے بعد وہ دونوں علیحدہ ہو گئے ۔

اب وہ نوجوان اور زیادہ پر جوش اور مزید ولولے کے ساتھ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے عوام میں جوش بھر رہا تھا ۔ ایک دن اس کی محنت رنگ لائی اور کوگ کافی تعداد میں اس کے ساتھ کافروں کے خلاف کھڑا ہونا شروع ہو گئے ۔ اس نے مزید جوش و خروش سے کام کرنا شروع کر دیا۔ اور اس کی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ اب لوگوں نے غلامی کی رسی کو توڑنے کے لیے زور لگانا شروع کردیا۔

ایک دن اس لڑکے کو اس کمانڈر کے ساتھ اس کی ملاقات یاد آئی جس میں اس کمانڈر نے اس کو یہ بتایا کہ میں بھی ایک مسلمان ہوں اور ایک جاسوس کے طور پر کافروں کی فوج میں شامل ہوا ہوں تاکہ میں اس قوم کی آزادی کے لیے کچھ کر سکوں ۔ بیٹا پہلے تم اکیلے تھے مگر اب تم نہیں ہو ۔ تمہاری تحریک اب سے زور پکڑنا شروع کر دے گی ۔ اس کے کچھ ہی دن بعد مسلمانوں کی اس تحریک نے اس قدر کامیابی حاصل کی کہ دشمن اس کی عوام کے جوش و خروش سے حوف زدہ ہو گیا کہ اس نے اتنی بڑی غلطیاں کر دیں کہ اس کے پاس جو بھی سپاہی تھے سب کے سب مارے گئے اور مسلمانوں نے ایک دفع پھر اپنی ریاست قائم کر لی۔

Kamal Minhas

پیدائش کا دن 2 دسمبر 1998 شوق: کتابوں کو پڑھنا اور مضمون نگاری

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button