BUSINESS

کاروبار یا نوکری /احتیاط ضروری تدابیر

اسلام و علیکم
میرے ساتھیوں میرا ٹاپک کاروبار یا نوکری ہے
کاروبار کے معنی لین دین تجارت کے ہیں یعنی آپ کوئی چیز شے لیکر یا بنا کر اسکو آگے فروخت کرتے ہیں یہ کاروبار کے زمرے میں آتا ہے اسلام میں بھی تجارت کے حوالے سے خوش آئند حوصلہ افزا باتیں موجود ہیں -نوکری کا لفظ سنتے ہی ہمارے ذہنوں میں نوکر ہونے کا خیال آ جاتا ہے نوکری کا مطلب خدمت گاری کے ہیں یاد رکھیں نوکری کرنا کوئی برا فعل نہیں ہے کیونکہ یہ نظام قدرت ہے اسی سے معاشرے کا تسلسل جاری رہتا ہے -اب میں تمام پڑھنے والے ساتھیوں کو میں کاروبار کے حوالے سے چند باتیں کروں گا جن کو ہر کاروباری شخص جلدی یا بدیر جان ضرور جاتا ہے مگر زیادہ تر لوگ یہ باتیں نقصان کر کے ہی سیکھتے ہیں جن ساتھیوں کو اپنا کاروبار کرنے کا شوق ہے سب سے پہلے ان کو یہی کہوں گا کاروبار میں صرف فائدہ سوچ کر آئینگے تو نئے کاروبار میں عموما شروعات میں مشکلات درپیش آتی ہیں

نئے کاروبار شروع کرنے والوں کیلئے مشورہ
آپ اپنے کام کو سیکھیں اس دوران ان چیزوں پر نظر رکھیں کہ کس کس چیز میں کتنا زیادہ اور کس میں کم فائدہ ہے اور کونسی ایسی شے ہے جو ناں بکنے کی صورت میں خراب ہوسکتی ہے کاروبار کو سیکھنے کے بہت سے فوائد ہوتے ہیں مثلا آپ کا اونچ نیچ کو جانچ کو جانچ جاتے ہیں .اس کے ساتھ ساتھ یہی کہوں گا کہ آپ خود دیکھیں کہ آیا میں کاروبار کرنے کی پوزیشن میں ہوں مطلب یہ کہ آج کل نوکری کرنے والے حضرات کی ایک حضرات کی ایک خاص روٹین ہے وہ کم سے کم آٹھ اور زیادہ سے زیادہ دس گھنٹے اپنی نوکری کو دیتے ہیں مگر اسکی نسبت ایک کاروباری شخص کم از کم اپنے کاروبار کو بارہ چودہ گھنٹے دیتا ہے یہ ناں ہو کہ شروعات میں تو آپ پوری لگن کے ساتھ کاروبار کو ٹائم دیں مگر آہستہ آہستہ یہ روٹین خراب کر دیں جس کی گنجائش کاروبار میں بالکل بھی نہیں ہے بہ نسبت نوکری کے پیشے سے منسلک فرد سے کیوں کہ اگر آپ کام کو ٹائم کسی بھی وجہ سے نہیں دینگے تو کاروبار پیسہ وقت سب کا ضیاع ہوگا اور اگر نوکری کے پیشے سے منسلک شخص کام میں کچھ کاہلی سستی دکھائے گا تو اس کو زیادہ مسئلہ درپیش نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں نوکری پیشہ مہینے کے شروع میں تنخواہ وصول کر ہی لیتا ہے

کاروبار شروع کرنے سے پہلے اپنے اہل خانہ کو اعتماد میں لیں جس سے آپکو حوصلہ اور بہت سی تجربے کی باتیں ملیں گی اور جہاں تک بات ہے کہ کونسا کاروبار شروع کیا جائے تو اس کے لیے یہی کہوں گا کوئی بھی کام چھوٹا بڑا نہیں ہے ایسا کام شروع کریں جو کہ آپ کے شوق دل سے مطابقت رکھتا ہے اسطرح کام کرنے میں آسانی ہو گی میرے نزدیک ایسا کام کرنا چاہیے جو کہ آپ کے شوق اور معاشرتی ضرورت ہو جس سے کام میں آسانی ہو گی اور نقصان کا اندیشہ بھی نہیں ہوگا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!