افسانے

عمر کی شہزادی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شہر میں بہت ہی خوبصورت لڑکی رہتی تھی. اس کا نام شہزادی تھا. وہ بہت پڑھی لکھی تھی. اس کا خواب تھا کہ کسی پڑھے لکھے لڑکے کے ساتھ اس کی شادی ہو .اس کے والدین نے اس کی شادی ایک نہایت شریف لڑکے سے کر دی. اس کا نام عمر تھا. وہ بہت محنتی تھا. مگر وہ ان پڑھ تھا. شہزادی کو عمر بالکل پسند نہیں آیا. مگر مجبوراً وہ اس کے ساتھ چلی گئی. شادی کے بعد وہ اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے لگی. وہ اس کو کم تر اور حقیر سمجھتی. کیونکہ وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا. وہ دن رات اللہ سے بس یہی دعا مانگتی کہ کسی طرح سے اس کی جان چھوٹ جائے عمر سے. وہ اس سے بات بات پہ جھگڑنے لگی. اس کو طعنے دینے لگی. مگر عمر نے کبھی اس کی کسی بات کا بورا نہ منایا. دن گزرتے گئے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا. وہ بس کسی طرح طلاق چاہتی تھی اس سے. مگر عمر اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا. وہ اس کی تمام باتوں کو نظرانداز کر کے صرف اس سے محبت کرتا. عمر ایک سرکاری دفتر میں کام کرتا تھا. شہزادی اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی تھی. ایک دن شہزادی جھگڑ کر اپنی امی ابو کے پاس چلی گئی. اور کہا کہ مجھے اس سے طلاق چاہیے. اس کی ماں نے اس کو سمجھایا کہ عمر ایک اچھا لڑکا ہے تم اس کے ساتھ ایسا سلوک مت کرو. اس نے اپنے والدین سے کہا کہ عمر مجھے خرچہ نہیں دیتا. شہزادی کے والدین نے عمر کو گھر بلایا. اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے. انہوں نے کہا کہ تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے. عمر نے کہا کہ انکل گھر کے اخراجات پورے کرنے کے بعد جو بھی بچتے ہیں سب شہزادی کو دے دیتا ہوں. شہزادی نے کہا کہ مجھے ہر ماہ 30ہزار روپے خرچہ چاہیے. عمر کچھ دیر خاموش رہا پھر ہامی بھری اور شہزادی کو ساتھ لے کر گھر واپس آ گیا. ہر ماہ شہزادی عمر سے تیس ہزار روپے خرچہ دیتا. شہزادی پھر بھی اسے پریشان کرتی. کبھی اس کے کھانے میں نمک زیادہ ڈالتی تو کبھی مرچی. عمر اسے کچھ نہیں کہتا خاموشی سے کھانا کھایا اور سو گیا بس. ایک دن شہزادی اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی. شاپنگ مال کے سامنے ایک بس سٹینڈ تھا. شہزادی نے وہاں پر عمر کو کام کرتے دیکھا تو ہکی بکی رہ گئی. عمر اس کے اخراجات پورے کرنے کے لئے وہاں پر کام کرتا تھا. وہ وہاں پر کلی کا کام کرتا. وہ کھانا کھائے بنا کام کرتا اور شام کو جیسا بھی کھانا ملتا کھا کر سو جاتا. وہ دن حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی. شہزادی کا دل موم ہو گیا اور وہ بنا شاپنگ کیے واپس آ گئی. گھر آ کر وہ بہت روئی. عمر کو پلاؤ بہت پسند تھا. اس نے عمر کے لیے پلاؤ بنایا اور عمر کا انتظار کرنے لگی. عمر جب گھر واپس آیا تو پلاؤ کی خوشبو سے مہک گیا. اور کہا واہ آج تو کمال کردیا پلاؤ بنا کر. ایک سال ہو گیا پلاؤ کھائے ہوئے. وہ شہزادی جو اسے پریشان کرتی رہی آج اسکے گلے لگ کر زاروقطار رونے لگی. اور عمر سے اپنے کیے کی معافی مانگنے لگی. عمر نے اسے سمجھایا کہ تم میری زندگی ہو. بس کبھی مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کرنا. اس دن شہزادی کی سمجھ میں بات آئی کہ شوہر ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو بس محبت کرنے والا ہونا چاہئے. اسے سمجھ میں آ گیا کہ گاڑی بنگلہ پیسہ یہ سب کچھ نہیں. یہ تو صرف وقتی ضرورت کی چیزیں ہیں. اسے سمجھ میں آیا کہ خاوند مخلص اور محبت کرنے والا ہونا چاہئے بس.

تحریر *** ڈاکٹر محمد عمران ***

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button